
رناک نیا موڑ
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تہران/دوحہ/بین الاقوامی ڈیسک: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں حملوں کا دائرہ فوجی اہداف سے نکل کر براہِ راست توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک پہنچ گیا ہے، جسے ماہرین انتہائی خطرناک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ—جو دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس ذخیرہ ہے—پر حملے کے بعد صورتحال نے نیا رخ اختیار کیا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
گیس فیلڈز کیوں اہم ہیں؟
ماہرین کے مطابق گیس فیلڈز کسی بھی ملک کی معیشت اور توانائی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ جنوبی پارس فیلڈ ایران کی گیس پیداوار کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے اور اس کا اثر نہ صرف ملکی معیشت بلکہ عالمی توانائی سپلائی پر بھی پڑتا ہے۔
اسی طرح قطر کا راس لفان اور متحدہ عرب امارات کے گیس فیلڈز عالمی توانائی مارکیٹ میں کلیدی کردار رکھتے ہیں، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو گیس فراہم کی جاتی ہے۔
حملے خطرناک کیوں سمجھے جا رہے ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق فوجی تنصیبات کے برعکس توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا زیادہ خطرناک ہے کیونکہ:
- ان کی مرمت میں سالوں لگ سکتے ہیں
- عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوتی ہے
- تیل و گیس کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوتا ہے
- ماحولیاتی تباہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں جبکہ یورپ میں گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
جنگ کا دائرہ کیوں بڑھا؟
ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل پہلے توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرتے رہے تاکہ علاقائی ردعمل نہ ہو، تاہم اب یہ “سرخ لکیر” عبور کی جا چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے کے دیگر ممالک کے گیس اور آئل انفراسٹرکچر کو بھی ہدف بنائے گا۔
خلیجی ممالک سب سے زیادہ متاثر
قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اس کشیدگی سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ ان ممالک کی معیشت بڑی حد تک توانائی برآمدات پر منحصر ہے، اور کسی بھی حملے سے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی اثرات اور خدشات
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات کئی سال تک رہ سکتے ہیں۔ عراق جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ توانائی کے شعبے کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
جنگ کا نیا اور خطرناک مرحلہ
مبصرین کے مطابق توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس جنگ کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں لے گیا ہے، جہاں صرف فوجی نہیں بلکہ معاشی اور ماحولیاتی جنگ بھی جاری ہے۔
اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو توانائی بحران، مہنگائی اور اقتصادی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



