
ایران کے ساتھ نئے تعاون اور تعلقات بڑھانے کا اعلان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے افریقی ممالک کو ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اور اسٹریٹجک حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران براعظم افریقہ کے ساتھ طویل المدتی اور متوازن سفارتی حکمت عملی کے تحت تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
صدر پزشکیان نے اس موقع پر کہا کہ ایران سائنسی، صنعتی اور دفاعی شعبوں میں اپنی تکنیکی مہارت اور تجربات برکینا فاسو کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی دنیا کے ممالک کے درمیان تعاون عالمی طاقتوں پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ایرانی صدر نے برکینا فاسو کی “خودمختار اور غیر جانبدار” خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اس کی کوششوں کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ افریقی ملک داخلی سلامتی کے چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوگا۔
دوسری جانب برکینا فاسو کے وزیر دفاع سیلسٹین سمپورے نے ایران کی دہائیوں پر محیط پابندیوں کے باوجود ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی اور تکنیکی پیش رفت خود انحصاری اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکینا فاسو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے لیے ایران کے تجربات سے سیکھنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں ایران نے افریقی ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور دفاعی روابط کو فروغ دینے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی عالمی سطح پر نئی شراکت داریوں کے قیام اور مغربی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور افریقی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون آنے والے برسوں میں علاقائی اور عالمی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی دوڑ تیز ہو رہی ہے۔



