تازہ ترینچین

کیا چینی ٹیکنالوجی اسرائیلی اور امریکی طیاروں کو مار گرائے گی؟ ایران کا نیا ہتھیار!

چین کا ایران کو جدید ریڈار اور سائبر ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا انکشاف

(تازہ حالات رپورٹ )

بیجنگ/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے ایران کو جدید ریڈار اور نگرانی کی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، جس کا مقصد امریکی اور اسرائیلی اسٹیلتھ طیاروں کا سراغ لگانے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

بین الاقوامی جریدے ماڈرن ڈپلومیسی کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی یا اسرائیلی سافٹ ویئر کے بجائے چینی خفیہ اور انکرپٹڈ ڈیجیٹل نظام اپنائے، تاکہ سی آئی اے اور موساد جیسے اداروں کی مبینہ دراندازی کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ اس اقدام کو ایران کی فوجی اور سرکاری تنصیبات کو ممکنہ سائبر حملوں سے محفوظ بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے ایران کو جدید سینسر سسٹمز اور ریڈار ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، جن میں YLC-8B نامی ریڈار بھی شامل ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ریڈار کم فریکوئنسی (UHF) بینڈ استعمال کرتا ہے، جس کے ذریعے جدید اسٹیلتھ طیاروں جیسے امریکی F-35 اور B-2 بمبار کو دور سے ٹریک کرنے کی صلاحیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ریڈار دنیا میں محدود تعداد میں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ چین ایران کو اپنے بیئی ڈو (BeiDou) سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب بھی دے رہا ہے، تاکہ امریکی جی پی ایس نظام پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اسے بیجنگ کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کا مقصد ایران کو مغربی ٹیکنالوجی سے دور کر کے چینی نظام پر منتقل کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین اس معاملے میں براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کرے گا، تاہم سفارتی سطح پر کسی بھی ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملے کی مخالفت کر سکتا ہے۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ خطے میں بڑی جنگ نہ صرف اس کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کو متاثر کرے گی بلکہ ایرانی تیل کی سپلائی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ایران اس وقت چین کو خام تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ گزرتا ہے۔

دفاعی مبصرین کے مطابق اگر ایران واقعی جدید ریڈار اور ڈیجیٹل تحفظ کے نظام حاصل کر لیتا ہے تو اس سے خطے میں فضائی طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان نظاموں کی مکمل آپریشنل صلاحیت کب تک حاصل ہو سکے گی اور عملی میدان میں ان کی کارکردگی کیسی ہوگی۔

چین، امریکا اور اسرائیل کے درمیان پیچیدہ تعلقات کے تناظر میں یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی اسٹریٹیجک تصویر کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جہاں ٹیکنالوجی اور سائبر میدان مستقبل کے تنازعات میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button