امریکی فوج نے ایران میں مزید حملوں کی تصدیق کر دی،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے 10 جون کو ایران میں متعدد مقامات پر مزید حملے کیے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی صدر کی ہدایت پر "دفاعی اقدامات” کے تحت کی گئی، جن کا مقصد امریکی افواج اور خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کو کم کرنا تھا۔
سینٹکام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران ایران کی فوجی نگرانی کی صلاحیتوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں امریکی بحریہ، فضائیہ اور میرین کور کے مختلف وسائل استعمال کیے گئے، جبکہ اہداف پر انتہائی درستگی کے حامل ہتھیاروں سے حملے کیے گئے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے مقامات ایسے فوجی اثاثے تھے جنہیں امریکی افواج اور خطے سے گزرنے والی بین الاقوامی تجارتی جہازرانی کے لیے ممکنہ خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔ واشنگٹن کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے مبینہ طور پر جاری جارحانہ اقدامات کے ردعمل میں کی گئی۔
دوسری جانب ایران ماضی میں ایسے امریکی الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو قرار دیتا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی کے آثار محدود دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں مؤثر ثابت نہ ہوئیں تو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج خطے میں مکمل طور پر چوکس، آپریشنل اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ امریکہ اپنے فوجیوں اور بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کو ترجیح دیتا رہے گا۔



