
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی صدر Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے امریکا بعض ممالک پر عائد تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی بڑھانا اور قیمتوں کو نیچے لانا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ حکومت کچھ ممالک کے لیے تیل سے متعلق پابندیاں عارضی طور پر کم کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک کو اس رعایت سے فائدہ مل سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق Iran کے خلاف جاری جنگ اور خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں جس سے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔

ٹرمپ نے اس موقع پر Vladimir Putin کے ساتھ ہونے والی حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور جنگ کے خاتمے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ان کے مطابق گفتگو مثبت رہی اور مختلف سفارتی تجاویز پر بھی بات ہوئی۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹوں نے ٹرمپ کے بیان پر فوری ردعمل دیا۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی کچھ کمی ریکارڈ کی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پابندیوں میں واقعی نرمی کی جاتی ہے تو اس سے عالمی تیل سپلائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ادھر ٹرمپ نے Strait of Hormuz کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس اہم گزرگاہ میں تیل کی ترسیل کو ہر صورت جاری رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی فریق نے اس راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔



