
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتہ 28 فروری کو ایران میں کیے گئے آپریشن “روئرنگ لائن” کے آغاز پر اس کی فضائیہ نے ایک انتہائی مربوط اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی میں ایرانی عسکری قیادت کو بڑا نقصان پہنچایا۔
اسرائیلی بیان کے مطابق ابتدائی حملے کے دوران تہران میں مختلف سیکیورٹی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایرانی فوج اور سیکیورٹی قیادت کا ایک اہم اجلاس جاری تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں سات اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار ہلاک ہوئے۔
آئی ڈی ایف کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف عبدالرحیم موسوی بھی شامل تھے، جنہیں حالیہ برسوں میں ایران کی عسکری قیادت کا اہم ستون قرار دیا جاتا تھا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ موسوی اس سے قبل ایرانی فوج کے کمانڈر رہ چکے تھے اور ملک کے سیکیورٹی ڈھانچے اور میزائل پروگرام کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی صرف ایک منٹ کے اندر 40 مرکزی فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا، جسے اسرائیلی فوج نے “انتہائی درست انٹیلی جنس پر مبنی تاریخی حملہ” قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر مکمل اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سرکاری میڈیا نے حالیہ حملوں میں سیکیورٹی شخصیات کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایران کی عسکری قیادت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ ممکنہ ردعمل اور اس کے اثرات پر مرکوز ہیں۔
قیادت کا بحران: تہران میں افراتفری
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ہی حملے میں پوری عسکری قیادت کا اس طرح نشانہ بننا ایرانی دفاعی نظام (Establishment) کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ یہ محض جانی نقصان نہیں بلکہ انٹیلی جنس کی سطح پر ایک بڑی ناکامی ہے کہ اسرائیل کو تہران کے قلب میں ہونے والے اجلاسوں اور کمانڈرز کی موجودگی کی لمحہ بہ لمحہ خبر تھی۔
آپریشن ‘لائنز رور’ کا مقصد
صدر ٹرمپ اور اسرائیلی حکام کے بیانات سے واضح ہے کہ اس آپریشن کا مقصد محض ڈرانا نہیں بلکہ ایرانی جنگی مشینری کو مستقل طور پر مفلوج کرنا ہے۔ ایران کے اندر اس وقت قیادت کا شدید خلا پیدا ہو چکا ہے، اور اب سب کی نظریں ‘عبوری قیادت کونسل’ پر ہیں کہ وہ اس قدر بڑے جانی نقصان کے بعد اپنے دفاع کو کیسے سنبھالتی ہے۔



