اسرائیلتازہ ترین

یورپ اپنی شناخت کھو رہا ہے، اسرائیلی وزیر اعظم کا دعویٰ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے یورپی ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ ہولوکاسٹ کے بعد کے بنیادی اسباق کو بھول چکا ہے اور اب وہ اپنی شناخت کے بحران سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق یورپ کو دوبارہ یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اچھائی اور برائی کے درمیان واضح فرق کیسے کیا جاتا ہے، اور اس حوالے سے اسرائیل ایک مثال بن سکتا ہے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ یورپ اس وقت گہری "اخلاقی کمزوری” کا شکار ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی سطح پر اہم معاملات میں مؤثر اور واضح مؤقف اختیار کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ ان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر یورپی ممالک اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں یورپی یونین کے کئی ممالک نے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے، خاص طور پر انسانی حقوق اور جنگی کارروائیوں کے حوالے سے۔ اس پس منظر میں نیتن یاہو کے بیانات کو ایک سخت سفارتی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو دونوں فریقوں کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایک الگ تنازع کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر شیئر کرنے کے بعد، جس میں انہیں حضرت عیسیٰؑ جیسی شخصیت کے طور پر دکھایا گیا، مذہبی اور سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔ تاہم ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے وضاحت کی کہ ان کے مطابق وہ تصویر دراصل ایک ڈاکٹر یا ریڈ کراس کے کارکن کی نمائندگی کر رہی تھی، نہ کہ کسی مذہبی شخصیت کی۔

یہ وضاحت بھی مکمل طور پر تنازع ختم نہ کر سکی، کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی تصاویر مذہبی حساسیت کو متاثر کر سکتی ہیں، خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں جہاں مذہب کا کردار سیاسی بیانیے میں نمایاں ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کے بیانات ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں عالمی سیاست میں مذہب، شناخت اور اخلاقیات کے موضوعات دوبارہ مرکزی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف سفارتی سطح پر تناؤ بڑھاتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی تقسیم کو گہرا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یورپ، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی بیانیاتی کشمکش مستقبل میں پالیسی سازی، اتحادوں اور عالمی طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ بیانات مزید حساسیت اختیار کر سکتے ہیں۔

موجودہ حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں صرف فوجی یا معاشی طاقت ہی نہیں بلکہ نظریاتی اور اخلاقی بیانیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور یہی عنصر آنے والے دنوں میں عالمی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button