
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے انٹیلیجنس وزیر کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق تہران میں رات کے وقت ایک کارروائی کے دوران Esmail Khatib کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ابھی تک ان کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ہی ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی رہنما Ali Larijani ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اسرائیلی مؤقف
اسرائیلی وزیر دفاع Yisrael Katz نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کی پالیسی جاری رکھے گی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کی قیادت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی شخصیات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل ٹارگٹڈ حملوں سے ایران کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کے مطابق ایسے اقدامات فوری طور پر نظام کو کمزور کرنے کے بجائے بعض اوقات مزید سخت ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔
دوسری جانب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں تو یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور براہِ راست جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
عالمی خدشات
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھنے کا خطرہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی خطہ مختلف تنازعات کا شکار ہے۔
لاریجانی کی ہلاکت کے بعد ایک اور اعلیٰ ایرانی عہدیدار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ کارروائیاں محدود رہتی ہیں یا خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔



