
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین نے ایک مختصر وقفے کے بعد دوبارہ تائیوان کے قریب حساس فضائی حدود میں اپنے فوجی طیارے بھیج دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ تائیوان کی وزارتِ دفاع کے مطابق چین کے کئی جنگی طیارے ایسے علاقے میں داخل ہوئے جو تائیوان کی فضائی نگرانی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ طیارے تائیوان کے ایئر ڈیفنس آئیڈینٹیفکیشن زون (ADIZ) میں داخل ہوئے، جو ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کسی بھی غیر ملکی فوجی سرگرمی کو قریب سے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ تائیوانی حکام نے بتایا کہ بدھ کی صبح سے جمعرات کی صبح تک کم از کم پانچ چینی فوجی طیاروں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں چین نے اچانک کچھ عرصے کے لیے ان پروازوں میں کمی کر دی تھی، جس کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔ تاہم اب دوبارہ سرگرمی بڑھنے سے خطے میں سیکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین طویل عرصے سے تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس حوالے سے بیجنگ کی حکومت بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ جزیرے کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے طاقت کے استعمال کا امکان بھی رد نہیں کرتی۔

دوسری جانب تائیوان اپنی خود مختار حکومت اور دفاعی نظام رکھتا ہے اور اس کے اہم اتحادی، خصوصاً امریکا، خطے میں استحکام برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں چین کی جانب سے جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جسے بعض ماہرین بیجنگ کی طاقت کے اظہار اور سیاسی دباؤ کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق تائیوان کے اردگرد فوجی سرگرمیوں میں معمولی تبدیلی بھی عالمی سیاست میں بڑی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ خطہ عالمی تجارت اور اسٹریٹجک توازن کے لیے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں تائیوانی فوجی حکام نے کہا ہے کہ وہ خطے میں ہونے والی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام تیار رکھا گیا ہے۔



