تازہ ترینعالمی خبریں

خفیہ آپریشن: امریکا سے فلسطینیوں کی اسرائیل منتقلی کا انکشاف

واشنگٹن/تل ابیب:
برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا نے حالیہ ہفتوں میں ایک خفیہ کارروائی کے تحت فلسطینی باشندوں کو بے دخل کر کے اسرائیل منتقل کیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکا سے دو خصوصی پروازیں تل ابیب کے بین گوریون ایئرپورٹ پر اتریں، جن میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر مقیم فلسطینی افراد کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر لایا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ فلسطینی افراد امریکا کی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی تحویل میں گرفتار کیے گئے تھے، جس کے بعد عدالتی کارروائی مکمل ہونے پر انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔ اسرائیل پہنچنے کے بعد انہیں مغربی کنارے (یہودیہ و سامریہ) کے مختلف چیک پوسٹس پر چھوڑ دیا گیا، جہاں وہ جیل کے ملبوسات میں اور اپنا سامان پلاسٹک بیگ میں اٹھائے ہوئے نظر آئے۔

رپورٹ کے مطابق پہلی پرواز 21 جنوری کو امریکا کی ریاست ایریزونا سے روانہ ہوئی، جو نیو جرسی، آئرلینڈ اور بلغاریہ سے ہوتی ہوئی اسرائیل پہنچی۔ اس پرواز میں آٹھ فلسطینی مرد شامل تھے۔ ایک اور پرواز گزشتہ ہفتے اسی طرز پر انجام دی گئی، جس میں مزید فلسطینیوں کو امریکا سے نکال کر اسرائیل منتقل کیا گیا۔

ان میں شامل ایک فلسطینی نوجوان ماہر عواد نے گارڈین کو بتایا کہ وہ تقریباً ایک دہائی سے امریکا میں مقیم تھا اور گرفتاری کے وقت اس کا خاندان وہیں رہ گیا۔ اس کے مطابق اسے اس وقت حراست میں لیا گیا جب اس نے اپنے گھر میں چوری کی اطلاع دینے کے لیے پولیس سے رابطہ کیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان پروازوں کے لیے استعمال ہونے والا طیارہ ایک اسرائیلی نژاد امریکی کاروباری خاندان کی رئیل اسٹیٹ کمپنی سے منسلک تھا، جس کے امریکی سیاست میں اثر و رسوخ اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ تاہم کمپنی کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ مسافروں کی شناخت یا پرواز کے مقصد سے لاعلم تھے اور طیارہ ایک نجی چارٹر کے تحت استعمال ہوا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سابق ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئی تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالت یہ طے کرے کہ کسی شخص کو امریکا میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں، تو اسے ملک بدر کیا جائے گا۔

سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں اس انکشاف پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ امریکا، اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے درمیان ایک نئے سفارتی اور قانونی تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button