امریکاتازہ ترین

ایران کے ساتھ معاہدہ اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے صدر ٹرمپ کا حالیہ حملوں کے بعد اہم بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود اب ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنا پہلے کے مقابلے میں آسان ہو گیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکہ بہتر پوزیشن میں ہے اور “یہ اب ایک دن پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہے۔”

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو حالیہ جھڑپوں میں “بھاری نقصان” اٹھانا پڑا ہے، جس کے باعث تہران پر دباؤ بڑھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر کیے گئے حملے “ہماری توقع سے کم شدت کے تھے”، اور صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔

سفارت کاری یا دباؤ کی حکمتِ عملی؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن فوجی دباؤ کو مذاکراتی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک طرف سخت موقف اپنائے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتی ہے۔

ایران کی جانب سے حالیہ بیانات میں امریکہ پر “جارحیت” کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم تہران نے مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ بین الاقوامی برادری، خصوصاً یورپی ممالک، کشیدگی کم کرنے اور فوری مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہے ہیں۔

خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار

اگرچہ ٹرمپ نے سفارتی امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، لیکن زمینی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی سرگرمیاں جاری ہیں اور خلیجی ممالک میں سیکیورٹی الرٹس برقرار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا دونوں فریق کشیدگی کم کرنے کی طرف بڑھتے ہیں یا صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ فی الحال عالمی نظریں واشنگٹن اور تہران کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔

سفارت کاری یا ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ؟

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر ٹرمپ کا "سفارتی حل” کی بات کرنا دراصل ایران کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ مزید تباہی سے بچنے کے لیے امریکی مطالبات تسلیم کر لے۔ واشنگٹن میں موجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اب ایک نئے علاقائی معاہدے کی طرف بڑھنا چاہتا ہے جس میں ایران کے میزائل پروگرام اور اس کے اتحادی گروہوں (Proxies) کے کردار کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

عالمی منظرنامہ اور تشویش

اگرچہ صدر ٹرمپ پرامید ہیں، لیکن بین الاقوامی برادری اب بھی خوفزدہ ہے کہ ایران اپنی بقا کی جنگ میں کسی بھی وقت غیر متوقع قدم اٹھا سکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر حملوں کے خدشات اب بھی برقرار ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے معاشی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button