
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایک تازہ رپورٹ میں ایران کی فوجی حکمتِ عملی “موزیک دفاع” (Mosaic Defense) کو خطے کی سیکیورٹی کے لیے اہم اور پیچیدہ منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے حالیہ برسوں میں اپنی دفاعی پالیسی کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ بڑے حملے کی صورت میں پورا نظام ایک مرکزی کمان پر منحصر نہ رہے بلکہ مختلف حصے الگ الگ انداز میں کارروائی جاری رکھ سکیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق موزیک دفاع کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر دشمن ایران کے اہم فوجی مراکز یا قیادت کو نشانہ بھی بنا لے تو بھی مختلف مقامی کمانڈرز اور یونٹس اپنی سطح پر جنگی کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔ اس حکمتِ عملی میں چھوٹے فوجی یونٹس، مقامی کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون نیٹ ورک کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ پورا نظام ایک جال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں اس تصور کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ اس کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں زیرِ زمین تنصیبات، میزائل لانچنگ سائٹس اور دفاعی مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں دفاعی صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمتِ عملی کی وجہ سے ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی آپریشن کو زیادہ پیچیدہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ حملہ آور کو صرف مرکزی فوجی مراکز ہی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں پھیلے متعدد دفاعی یونٹس کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی یہ دفاعی پالیسی خطے میں طاقت کے توازن اور سیکیورٹی ماحول کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی دفاعی حکمتِ عملی مکمل طور پر ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے ہے اور اس کا مقصد بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایران کی اس قسم کی فوجی حکمتِ عملی پر عالمی سطح پر مزید بحث ہونے کا امکان ہے، کیونکہ یہ مستقبل کی جنگوں کے انداز اور دفاعی حکمتِ عملیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔



