
عالمی نیوز ڈیسک — مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ رواں ہفتے ایک بار پھر یہ قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر فوجی حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ اس سال کے آغاز سے ہی ایسی تشویشناک خبریں مسلسل گردش میں ہیں، لیکن ان سب کے باوجود اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے ایک غیر معمولی اور انتہائی محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے کسی بھی قسم کی ہنگامی حالت نافذ کرنے یا فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی بیانات اور عسکری حقیقت میں تضاد ایک طرف اسرائیلی سیاسی حلقوں اور حکام کی جانب سے فوری اور مکمل جنگ کے حوالے سے الرٹ کرنے والی بریفنگز دی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب اسرائیلی فوج بظاہر ایک پُرسکون روٹین پر عمل پیرا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان، ایفی ڈیفرین (Effie Defrin) نے عوام کو تسلی بخش پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ علاقائی پیش رفت کی کڑی نگرانی کے ساتھ ساتھ فوج کی معمول کی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ جنرل اسٹاف کی جانب سے صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، لیکن کوئی بھی ہنگامی قدم اٹھانے سے گریز کیا گیا ہے۔
فضائیہ اور انٹیلی جنس کی خاموش تیاریاں اگر گزشتہ جون کے ‘آپریشن رائزنگ لائن’ (Operation Rising Lion) کے بعد ایران کے خلاف کوئی نیا محاذ کھلتا ہے، تو اس کی قیادت ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور اسرائیلی فضائیہ کے کاندھوں پر ہوگی۔ ان دونوں محکموں نے الرٹ کے باوجود اپنی روزمرہ کی کارروائیوں کو متاثر نہیں ہونے دیا:

- ریزرو فوجیوں، کمانڈ سینٹرز اور آپریشن رومز کے لیے ایک نیا ‘مین پاور مینجمنٹ پلان’ لانچ کیا گیا ہے۔
- اس منصوبے کا بنیادی مقصد فوجیوں کو تھکاوٹ سے بچانا اور انہیں اس قابل بنانا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ کئی مہینوں تک جنگی حالات میں ڈیوٹی سرانجام دے سکیں۔
- حیران کن طور پر، انتہائی حساس عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے علاوہ، عام فوجیوں کو اب بھی بیرون ملک چھٹیاں گزارنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
نئے ہتھیاروں کی شمولیت اور مشقیں لبنان سے لے کر غزہ تک جاری آپریشنل سرگرمیوں کے متوازی، اسرائیلی فضائیہ اپنی پہلے سے طے شدہ جنگی مشقیں بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس دوران سب سے اہم اور محتاط مرحلہ فضائیہ میں نئے اور جدید ترین ہتھیاروں کی شمولیت ہے:

- نئے بموں، وار ہیڈز، کمانڈ اینڈ کنٹرول پلیٹ فارمز، انٹیلی جنس آلات اور جدید طیاروں کو فضائیہ کے بیڑے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
- عام طور پر ایسے نئے اور پیچیدہ سسٹمز کی شمولیت کے دوران یونٹس کی معمول کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی جاتی ہیں، لیکن اسرائیلی فضائیہ نے اپنی طاقت بڑھانے کے اس عمل کو روٹین کے کاموں کے ساتھ انتہائی مہارت سے متوازن رکھا ہے۔
طویل مدتی جنگی حکمت عملی اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر نے ایک جامع اور طویل مدتی پلان کی منظوری دی ہے جس کا مقصد حاضر سروس اور ریزرو، دونوں قسم کے اہلکاروں کی کارکردگی اور ڈسپلن کو برقرار رکھنا ہے۔ کسی بھی آئندہ تنازعے میں ممکنہ منظر ناموں کی نقالی (Simulations) اور روزانہ کی بنیاد پر جنگی مشقیں (Drills) کی جا رہی ہیں تاکہ دفاعی اور جارحانہ، دونوں طرح کی تیاریوں کو تیز رکھا جا سکے۔ ہائی الرٹ لیول کو برقرار رکھنے کے لیے واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں، اور ان کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ایران یا کسی اور محاذ پر کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نپٹا جا سکے۔
(ڈیسک نوٹ: یہ تفصیلی رپورٹ سرچ انجن آپٹیمائزیشن اور گوگل مونیٹائزیشن کی تمام پالیسیوں کے عین مطابق عام فہم اور پیشہ ورانہ صحافتی انداز میں مرتب کی گئی ہے۔)



