
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا میں اعلیٰ سطح پر ایران سے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیانات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ امریکی نائب صدر JD Vance نے انکشاف کیا کہ ایران کی بااثر قیادت سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت نے پہلی بار امریکی نائب صدر کے ساتھ براہِ راست ملاقات کی، جسے وہ ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیتے ہیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق، اس ملاقات سے یہ تاثر ملا کہ ایرانی حکام کسی حد تک معاہدے کے لیے آمادہ دکھائی دیتے تھے، تاہم انہوں نے محتاط انداز میں کہا کہ ایسی صورتحال میں حتمی رائے دینا مشکل ہوتا ہے کیونکہ سفارتی عمل غیر یقینی سے بھرپور ہوتا ہے۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے حوالے سے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دے تو امریکا ایران کی معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ممکنہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر واقعی بیک ڈور مذاکرات جاری ہیں تو یہ مستقبل میں کسی بڑے سفارتی معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں، تاہم اعتماد کی کمی اور ماضی کے تنازعات اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے باوجود رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔



