
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران میں جاری جنگ اور امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں اندرونی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی کے آثار سامنے آ رہے ہیں، جہاں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سخت گیر فوجی عناصر امن مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے نظام کے اندر کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے روایتی مرکزی طاقت کے ڈھانچے میں کمزوری آئی ہے۔ اس صورتحال کے بعد اب درمیانی سطح کے فوجی افسران کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، جو زیادہ سخت مؤقف رکھتے ہیں اور جنگ جاری رکھنے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بدلتے ہوئے پاور اسٹرکچر کے باعث ایران میں فیصلہ سازی کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جہاں مختلف علاقوں میں موجود کمانڈرز کو زیادہ خودمختاری حاصل ہو گئی ہے۔ اس سے ایک ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جہاں مختلف دھڑے اپنی اپنی حکمت عملی کے مطابق ردعمل دیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارے دیے گئے ہیں، اور اطلاعات کے مطابق امریکا نے ایران کو ایک 15 نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ تاہم ایرانی فوجی ترجمان نے اس عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا حقیقت میں خود ہی سے مذاکرات کر رہا ہے۔
ادھر ماہرین نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر مذاکرات جاری رہے تو ایران کے اندر سخت گیر عناصر اور معتدل حلقوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے، جو داخلی عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔

عالمی سطح پر بھی اس تنازع کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی یا کشیدگی برقرار رہی تو یورپ اور ایشیا میں ایندھن کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک 100 سے 150 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں تو عالمی معیشت کساد بازاری کی طرف جا سکتی ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک پر پڑیں گے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران میں داخلی طاقت کا توازن، عالمی سفارتی کوششیں اور توانائی کا بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل بن چکے ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔



