ایرانتازہ ترین

ایران جنگ کا ہدف گریٹر اسرائیل ؟ اردگان کا دھماکہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ترکیہ کے صدر Recep Tayyip Erdoğan نے ایک سخت بیان میں اسرائیل کی حالیہ عسکری کارروائیوں کو ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات محض سیکیورٹی نہیں بلکہ ایک بڑی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔

اپنے بیان میں ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے Gaza Strip، Lebanon، Syria، Iraq اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں Iran تک پھیلنے والی کارروائیاں ایک بڑے علاقائی ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ انہوں نے اس تناظر میں "گریٹر اسرائیل” کے تصور کا حوالہ دیا، جسے بعض حلقے ایک تاریخی یا نظریاتی بحث کے طور پر دیکھتے ہیں۔

صدر اردوان نے مزید کہا کہ ترکیہ ایسے کسی بھی منصوبے کی مخالفت کرے گا جو خطے میں عدم استحکام کو بڑھائے یا دیگر ممالک کی خودمختاری کو متاثر کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی طویل عرصے سے تنازعات کا شکار ہے اور مزید کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ ان کی فوجی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں، جن کا مقصد اپنے شہریوں کو سیکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے، خاص طور پر Hamas اور Hezbollah جیسے گروہوں کی سرگرمیوں کے تناظر میں۔

ماہرین کے مطابق، "گریٹر اسرائیل” کا تصور تاریخی اور سیاسی مباحث میں موجود رہا ہے، تاہم اسے عملی پالیسی سے جوڑنے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ بیانات خطے میں جاری کشیدگی، سفارتی تناؤ اور عوامی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔

ادھر بین الاقوامی سطح پر بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ مختلف ممالک فریقین سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button