
(تازہ حالات رپورٹ )
امریکی صدر Donald Trump نے شمالی کیرولائنا کے فوجی اڈے فورٹ بریگ میں تعینات اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں پیش رفت کے لیے بعض اوقات "خوف” بھی ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا آسان نہیں رہا اور اگر بات چیت ناکام ہوئی تو امریکا کو ہر آپشن کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
ٹرمپ نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری بیڑا بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔ صدر کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوں تو امریکا تیار رہے۔
عمان میں حالیہ مذاکرات
گزشتہ ہفتے عمان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ان مذاکرات سے یہ اندازہ لگانے کا موقع ملا کہ واشنگٹن کتنا سنجیدہ ہے، اور سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے کچھ حد تک اتفاق رائے موجود ہے۔ تاہم آئندہ مذاکرات کی تاریخ اور مقام تاحال طے نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں گزشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کا حوالہ بھی دیا، جسے انہوں نے دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔

سیاسی رنگ لیے خطاب
فورٹ بریگ، جہاں تقریباً 50 ہزار فوجی تعینات ہیں، میں خطاب کے دوران ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو فوجی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ دورہ آئندہ کانگریسی انتخابات کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ شمالی کیرولائنا کو سیاسی طور پر فیصلہ کن ریاست تصور کیا جاتا ہے۔
وینزویلا کا حوالہ
صدر ٹرمپ نے اسی دورے کے دوران ان خصوصی دستوں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے جنوری میں وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ مادورو پر امریکا میں منشیات سے متعلق الزامات عائد ہیں، تاہم وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
آگے کیا؟
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق بحری تعیناتی، سخت بیانات اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق دباؤ اور مذاکرات کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔



