امریکاایرانتازہ ترین

اسرائیل نے ایرانی قیادت کو دھوکے میں رکھ کر بڑا حملہ کیسے کیا؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران سامنے آنے والی نئی تفصیلات کے مطابق اسرائیل نے ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک پیچیدہ خفیہ آپریشن ترتیب دیا تھا جس میں فوجی دھوکہ دہی، انٹیلی جنس معلومات اور جدید میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔

اسرائیلی فوج (IDF) کے مطابق حملے سے چند گھنٹے پہلے ایرانی قیادت کو یہ تاثر دیا گیا کہ اسرائیلی فوجی سرگرمیاں معمول کے مطابق ہیں اور ہفتہ وار مذہبی تعطیل شبات کے باعث اعلیٰ فوجی حکام اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کو یہ یقین دلانا تھا کہ کسی بڑی فوجی کارروائی کی تیاری نہیں ہو رہی۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کے سینئر افسران کو جان بوجھ کر اپنے ہیڈکوارٹرز سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم وہ بعد میں خفیہ طور پر واپس آ گئے اور آپریشن کی نگرانی کرتے رہے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں ایران کی اعلیٰ قیادت نے خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے تہران میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔

رپورٹس کے مطابق اسی دوران اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیارے، جن میں F-15 لڑاکا طیارے بھی شامل تھے، صبح کے وقت مشن کے لیے روانہ ہوئے۔ بعد ازاں تہران میں واقع اہم سرکاری کمپلیکس پر درجنوں میزائل داغے گئے جن میں جدید “بلیو اسپارو” میزائل بھی شامل تھے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق بلیو اسپارو میزائل انتہائی تیز رفتار اور طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ میزائل فضا کی بالائی سطح تک پہنچ کر دوبارہ زمین کی طرف آتے ہیں، جس کے باعث انہیں روکنا روایتی فضائی دفاعی نظام کے لیے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی خصوصیت انہیں اس نوعیت کے حملوں کے لیے مؤثر بناتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حملے کے دوران تہران کے حساس علاقے میں موبائل فون نیٹ ورک بھی عارضی طور پر متاثر کر دیا گیا تاکہ ممکنہ وارننگ یا رابطے کے ذریعے ہدف کو بچ نکلنے کا موقع نہ مل سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی تیاری کئی برسوں پر محیط خفیہ انٹیلی جنس مہم کا نتیجہ تھی۔ اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں نے مبینہ طور پر تہران کے نگرانی کے نظام اور سکیورٹی کیمروں سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے اہم شخصیات کی نقل و حرکت اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور انسانی انٹیلی جنس کے امتزاج نے اس کارروائی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کا مقصد تہران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ خطرات کو محدود کرنا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہ سکتی ہیں جب تک ان کے بقول خطے میں موجود خطرات کو ختم نہیں کیا جاتا۔

دوسری جانب ایران نے ان حملوں کو سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے نتائج کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف کسی بھی کارروائی کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

ادھر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خلیج میں بحری جہاز رانی متاثر ہوئی ہے، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے جبکہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو خطے سے نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کے لیے بھی اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس بحران کی سمت کا تعین مزید فوجی اور سفارتی پیش رفت سے ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button