ایرانتازہ ترین

ایران نے قومی سلامتی چیف علی لاریجانی بسیج کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی شہادت کا اعلان کردیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران نے باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ ملک کی اعلیٰ سکیورٹی قیادت سے تعلق رکھنے والے اہم رہنما علی لاریجانی اور داخلی نیم فوجی فورس بسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی حالیہ حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل پہلے ہی ان شخصیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکا تھا۔

ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ایک بیان میں علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں "انقلاب اور ایران کی خدمت میں شہادت کا اعلیٰ مقام حاصل کرنے والا رہنما” قرار دیا۔

اسی دوران پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بھی غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کی، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ حملے میں ایران کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

ایران کی اعلیٰ قیادت کو بڑا نقصان

ماہرین کے مطابق علی لاریجانی ایران کے ان چند طاقتور ترین افراد میں شمار ہوتے تھے جو ریاستی پالیسی سازی میں مرکزی کردار رکھتے تھے۔ ان کی ہلاکت کو فروری میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد سب سے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

لاریجانی کو آخری بار جمعے کے روز تہران میں یوم القدس ریلی میں دیکھا گیا تھا، جہاں وہ صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔ یہ ان کی آخری عوامی سرگرمی ثابت ہوئی۔

اسرائیلی مؤقف اور حکمت عملی

اسرائیلی قیادت نے ان کارروائیوں کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اس کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں ایران کے اندر نظام کو کمزور کرنے اور عوام کو "اپنا مستقبل خود طے کرنے کا موقع دینے” کے لیے کی جا رہی ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں وقتی طور پر نفسیاتی دباؤ ضرور پیدا کرتی ہیں، لیکن ایران جیسے نظام میں قیادت کا متبادل فوری طور پر سامنے آ جاتا ہے۔

"وہیک اے مول” حکمت عملی کیا ہے؟

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل اس وقت ایران کے خلاف جس حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں اسے "Whac-A-Mole” یعنی "ایک کو ہٹاؤ، دوسرا آ جائے گا” کہا جا رہا ہے۔

دوحہ انسٹیٹیوٹ کے ایک پروفیسر کے مطابق:

"ایران میں قیادت کا ایک مضبوط اور منظم ڈھانچہ موجود ہے، اس لیے کسی ایک یا چند رہنماؤں کی ہلاکت سے نظام کے مکمل طور پر گرنے کا امکان کم ہے۔”

البتہ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس طرح کے حملے علامتی اور نفسیاتی طور پر انتہائی اہم ہوتے ہیں۔

آخری پیغام میں کیا کہا؟

ہلاکت سے کچھ ہی دیر پہلے اپنے ایک پیغام میں علی لاریجانی نے واضح کیا تھا کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

انہوں نے مسلم دنیا سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ:

  • بعض اسلامی ممالک ایران کی حمایت میں ناکام رہے ہیں
  • خطے میں جاری جنگ میں "غیر جانبداری ممکن نہیں”
  • ایران اپنی خودمختاری اور دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک پر بالادستی قائم کرنے کا خواہاں نہیں بلکہ اسلامی دنیا کے اتحاد کو خطے کے استحکام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

خطے کی صورتحال کس طرف جا رہی ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ان ہلاکتوں کے بعد:

  • ایران کی جانب سے مزید سخت ردعمل کا امکان ہے
  • خطے میں پراکسی گروپس کی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں
  • امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے

خلیجی ممالک پہلے ہی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور اسے اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

اگرچہ ایران کو قیادت کے نقصان کا سامنا ہے، لیکن ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایرانی نظام ایسے دھچکوں کے بعد خود کو تیزی سے سنبھال لیتا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں ایک بات واضح ہے:
یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سکیورٹی کے منظرنامے کو مزید غیر یقینی اور خطرناک بنا رہا ہے۔

عالمی برادری کی نظریں اب ایران کے ممکنہ ردعمل اور خطے میں آنے والی اگلی بڑی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button