ایرانتازہ ترین

متنازع خلیجی جزائر پر ایرانی فوجی مشقیں، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے خلیج فارس میں واقع متنازع جزائر کے قریب بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ یہ جزائر، جن میں ابو موسیٰ، گریٹر تنب اور لیسر تنب شامل ہیں، ایران کے کنٹرول میں ہیں لیکن متحدہ عرب امارات ان پر اپنا حق جتاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ مشقیں اچانک شروع کی گئیں اور ان کا مقصد ان جزائر کے دفاع کے لیے ایران کی تیاری کا مظاہرہ کرنا تھا۔ ان مشقوں کے دوران ایرانی فورسز نے جدید میزائل، ڈرونز، بحری جہاز اور دیگر عسکری سازوسامان کا استعمال کیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان مشقوں میں پہلی بار ایک نیا بحری جہاز بھی پیش کیا گیا، جو تقریباً 600 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے۔ اس کے علاوہ فتح بیلسٹک میزائل اور قدیر کروز میزائل بھی ان جزائر پر نصب کیے گئے، جو دفاعی صلاحیت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مشقوں کے دوران بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار، فضائی دفاعی نظام اور اینٹی ایئرکرافٹ ہتھیار بھی تعینات کیے گئے۔ ایرانی فورسز نے تیز رفتار ردعمل کی مشقیں بھی کیں، جن میں ڈرونز اور ریموٹ کنٹرولڈ کشتیوں کا استعمال شامل تھا۔

ایرانی بحریہ کے کمانڈر نے اس موقع پر کہا کہ یہ جزائر ایران کی قومی خودمختاری اور وقار کی علامت ہیں، اور ان کا دفاع ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ایران نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ ان جزائر کی ملکیت پر کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی بحری اور فضائی طاقت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا بتایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فوجی مشقیں ایک واضح پیغام ہیں کہ ایران خلیج میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک اور عالمی طاقتیں اس صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان جزائر کی اہمیت صرف جغرافیائی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے، کیونکہ یہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو یہ تنازع وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی سپلائی اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button