
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے جمعہ کی علی الصبح ایک بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا دعویٰ کیا ہے، جس میں جدید میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ رات تقریباً 1:20 بجے شروع کیا گیا اور اسے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی "آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت کی گئی، جس میں متعدد قسم کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ ان میں قدر، خرم شہر، خیبر شکن، قیام اور ذوالفقار جیسے میزائل شامل ہیں، جبکہ حملے میں خودکش ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔
بیان کے مطابق بعض میزائلوں میں ملٹی وارہیڈ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، جس کے ذریعے ایک ہی میزائل سے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں اسرائیل کے مرکزی اور جنوبی علاقوں سمیت تل ابیب کے گرد و نواح کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات بھی ہدف بنیں۔
ایرانی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملے "کامیاب” رہے اور انہوں نے اسرائیلی دفاعی نظام کی کمزوری کو ظاہر کیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ اسرائیلی حکام عموماً ایسے حملوں کے زیادہ تر میزائلوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ملٹی وارہیڈ میزائل (MIRV طرز) جدید جنگی ٹیکنالوجی کا حصہ ہیں، جو دفاعی نظام کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں کیونکہ ایک ہی میزائل سے کئی الگ الگ اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل میں سائرن بجنے اور شہریوں کے پناہ گاہوں میں جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حملوں کا دائرہ وسیع تھا۔ تاہم نقصانات اور جانی صورتحال سے متعلق مکمل تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر جب دونوں فریق مسلسل فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایک دوسرے پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر اس طرح کے حملے جاری رہے تو یہ تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر سکیورٹی اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی، میزائل طاقت اور فضائی دفاعی نظام مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ عام شہری اس کشیدگی کا براہِ راست اثر محسوس کر رہے ہیں۔



