
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ متعدد ممالک میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ایئرپورٹس عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ کئی اہم بندرگاہوں پر آپریشنز محدود یا معطل کر دیے گئے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے کی تجارت، توانائی کی ترسیل اور مالیاتی منڈیوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فضائی حدود کی جزوی بندش کے باعث بین الاقوامی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی طرح بعض بندرگاہوں پر کنٹینرز کی لوڈنگ اور آف لوڈنگ کا عمل سست پڑ گیا ہے، جس سے سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی طویل ہو گئی تو توانائی کی عالمی منڈی، تیل کی قیمتوں اور اشیائے خوردونوش کی سپلائی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ریاستیں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے کسی بھی بڑے تعطل کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضروری حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

خلاصہ:
خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے باعث ایئرپورٹس اور بندرگاہوں کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی فضا نے بڑے کاروباروں کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو اس کے عالمی اقتصادی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔



