
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران سے منسلک خفیہ نیٹ ورک نے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور دفاعی نظام کی نگرانی میں کردار ادا کیا۔ امریکی نشریاتی ادارے CBS News کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے سے قبل امریکی فوجی سرگرمیوں کی باریک بینی سے نگرانی کی جا رہی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ایران سے منسلک مبینہ ایجنٹوں نے کویت کے اندر امریکی فوجی اہداف کی درست نشاندہی کی اور بعض مقامات کے قریب مواصلاتی یا سگنل بھیجنے والے آلات نصب کیے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ آلات امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے قریب نصب کیے گئے تھے تاکہ ممکنہ طور پر ان کی پوزیشن یا سگنلز کی نشاندہی کی جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے حملے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل امریکی فوجی تنصیبات اور نقل و حرکت کی نگرانی کے آثار بھی ملے ہیں۔ رپورٹس میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض مسلح گروہوں نے چھوٹے ڈرونز کے ذریعے کویت کے الشعیبہ بندرگاہ کے اطراف فضائی نگرانی کی تھی۔

ذرائع کے مطابق حملے کے ایک دن بعد امریکی فوج کو کچھ ایسے GPS ٹرانسمیٹر ملے جو غباروں یا پیراشوٹ نما آلات کے ذریعے پیٹریاٹ دفاعی نظام کے قریب نصب کیے گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے آلات دشمن کے لیے دفاعی نظام کی پوزیشن یا ریڈار سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جس کے بعد امریکی اور کویتی حکام نے مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملے کی منصوبہ بندی کس حد تک مقامی یا علاقائی نیٹ ورک کی مدد سے کی گئی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جدید جنگ صرف میزائل یا فضائی حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ خفیہ نگرانی، سائبر اور انٹیلی جنس سرگرمیاں بھی اس کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج کے ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور دفاعی نظام خطے میں طاقت کے توازن کا اہم حصہ ہیں، اس لیے ان کی نگرانی یا انٹیلی جنس سرگرمیوں کی خبریں علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔



