
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے حالیہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات اور لبنان کی سیکیورٹی پالیسی پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ایران کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہیں اور حالیہ دنوں میں ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران انہوں نے سخت لہجے میں ایرانی قیادت کو واضح پیغام دیا۔
گراہم کے مطابق اس گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر وہ "مزید کھیل” جاری رکھتا ہے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گفتگو کے دوران ٹرمپ کا لہجہ اس قدر سخت تھا کہ ان کی آواز تک متاثر ہو گئی۔ تاہم اس دعوے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جس کے باعث اس بیان کو سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کے حوالے سے سینیٹر گراہم نے ایک اور بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور ملک مالی بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق خاص طور پر ایران کی سمندری تجارت پر ان پابندیوں کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، جس سے اس کی برآمدات اور مالی وسائل متاثر ہوئے ہیں۔
لبنان کے حوالے سے گراہم نے لبنانی فوج کی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قیادت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے قابلِ اعتماد نہیں اور جب تک ایک واضح اور مؤثر حکمت عملی تیار نہیں کی جاتی، لبنان میں کسی بھی امن معاہدے کا امکان کم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ غیر ریاستی مسلح گروہوں کے کردار کو محدود کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گراہم کے یہ بیانات امریکی پالیسی کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، خاص طور پر ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے حوالے سے۔ تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ براہِ راست مذاکرات کی خبریں اگر درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح لبنان میں حزب اللہ کے کردار اور اس کے مستقبل پر بھی بین الاقوامی توجہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
مجموعی طور پر، سینیٹر گراہم کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد تنازعات، اقتصادی دباؤ اور سفارتی سرگرمیوں کے باعث حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں ان بیانات کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔



