
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے آغاز کے صرف چھ دنوں میں ہی امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے اخراجات 11.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رقم ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگی کارروائیاں امریکہ کے لیے مالی طور پر انتہائی مہنگی ثابت ہو رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان اخراجات میں زیادہ تر رقم میزائل دفاعی نظام، فضائی حملوں، جنگی جہازوں کی تعیناتی، اور مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں پر خرچ ہوئی۔ امریکی فوج نے ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے بڑی تعداد میں دفاعی میزائل استعمال کیے، جن کی قیمت لاکھوں سے لے کر کروڑوں ڈالر تک ہوتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران استعمال ہونے والے جدید ہتھیار، جیسے ٹاماہاک کروز میزائل، پیٹریاٹ اور تھاڈ دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر، انتہائی مہنگے ہوتے ہیں اور ان کے استعمال سے جنگی اخراجات تیزی سے بڑھ جاتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا دی ہے۔ اس دوران اضافی بحری بیڑے، لڑاکا طیارے، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں، جس سے آپریشنل اخراجات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے مالی اثرات امریکی معیشت اور دفاعی بجٹ پر بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی بڑی جنگوں میں روزانہ اربوں ڈالر کے اخراجات معمول کی بات ہوتے ہیں۔
ادھر امریکی کانگریس میں بھی اس جنگ کے مالی بوجھ پر بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں بعض اراکین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر جنگ لمبے عرصے تک جاری رہی تو اس کے اخراجات کہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔
عسکری ماہرین کے مطابق جدید دور کی جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات توانائی کی عالمی منڈی، معیشت اور دفاعی اخراجات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایران جنگ کے آغاز کے چند دنوں میں سامنے آنے والے یہ اخراجات اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔



