مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا سائرن: ٹرمپ کی ‘ڈیڈ لائن’ اور ایران کا کلسٹر میزائلوں سے جواب کا انتباہ

خاص رپورٹ: ویب ڈیسک | تہران / واشنگٹن
مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں بارود کی بو تیز ہونے لگی ہے۔ ایک طرف امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘وارننگز’ نے خطے میں ہلچل مچا دی ہے، تو دوسری طرف ایران نے اپنی دفاعی پوزیشن کو جارحانہ رخ دے دیا ہے۔ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر اور عسکری ماہرین کے دعوے بتاتے ہیں کہ تہران اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی اب محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔
ٹرمپ بمقابلہ خامنہ ای: نفسیاتی جنگ عروج پر
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اس بیان پر کہ "اگر ایران پر حملہ ہوا تو یہ علاقائی جنگ ہوگی”، ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردِعمل دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج اور بحری بیڑے کسی بھی وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے ایک سفارتی دروازہ کھلا رکھتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ایران "ڈیل” کر لے گا۔

ایران کی نئی عسکری صف بندی: روس سے طیاروں کی آمد
عسکری حلقوں میں اس وقت سب سے بڑی خبر روس کی جانب سے ایران کو جدید جنگی طیاروں کی فراہمی ہے۔ ایرانی میڈیا کے دعووں کے مطابق روس سے Mig-27 اور Mig-29 طیارے ایران پہنچ چکے ہیں، جس سے ایرانی فضائیہ کی طاقت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیلی ٹی وی ‘چینل 12’ نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی مشقیں تیز کر دی ہیں۔

کلسٹر میزائلوں کی دھمکی اور خلیجی ممالک کا خوف
اسرائیلی اخبار ‘یدیعوت احرونوت’ نے خبردار کیا ہے کہ اگر باقاعدہ جنگ چھڑتی ہے تو ایران اسرائیل پر کلسٹر میزائلوں کی بارش کر سکتا ہے، جو دفاعی نظاموں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گے۔
دوسری جانب خلیجی حکام نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اگرچہ ایران کے میزائل پروگرام کو ماضی میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا ہے۔ خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ ایران اپنی بقا کی جنگ میں امریکی اڈوں اور ان کے اتحادیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے پورے خطے کا استحکام داؤ پر لگ جائے گا۔

اہم نکات جو آپ کو جاننا ضروری ہیں:
- امریکہ کی مبینہ مداخلت: سابق امریکی وزیرِ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ماضی میں ایران کے اندر ‘فسادیوں’ اور انتشار پسند عناصر کی بھرپور مدد کی تاکہ تہران کو اندرونی طور پر کمزور کیا جا سکے۔
- سمندری مشقیں: ایران نے اپنی بحری حدود میں جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں، جس کا مقصد امریکی بیڑوں کو پیغام دینا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
- مستقبل کی سنگینی: خلیجی حکام کا ماننا ہے کہ ایران حالیہ تنازع کو اپنی ‘وجود کی جنگ’ سمجھ رہا ہے، اس لیے آنے والے حملے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ: کیا سفارت کاری کا وقت ختم ہو چکا؟
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی واپسی کے بعد سے ‘میکسمم پریشر’ (زیادہ سے زیادہ دباؤ) کی پالیسی دوبارہ فعال ہو چکی ہے۔ تاہم، روس اور چین کا ایران کی طرف جھکاؤ اس بار امریکہ کے لیے حالات کو 2016 کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اگر فریقین نے تحمل سے کام نہ لیا تو فروری 2026 کا یہ مہینہ عالمی تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔



