ایرانتازہ ترینمشرق وسطییورپ امریکا

خلیج میں خطرناک کشیدگی: ایرانی ڈرون، امریکی کیریئر اور پسِ پردہ مذاکرات

امریکا اور ایران کے درمیان خلیج کے پانیوں میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں فوجی واقعات، متضاد دعوے اور سفارتی رابطے بیک وقت جاری ہیں۔ تازہ پیش رفت نے خطے میں کسی بھی غلط اندازے کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق امریکا نے ایران کا ایک جنگی ڈرون شاہد 139 مار گرایا ہے۔ یہ ڈرون امریکی بحری بیڑے اور ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کے قریب پرواز کر رہا تھا، جسے امریکی بحریہ کے F-35C طیارے نے نشانہ بنایا۔ امریکی موقف کے مطابق یہ کارروائی اپنے دفاع کے تحت کی گئی۔

تاہم ایرانی میڈیا نے امریکی دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری چینل پریس ٹی وی اور تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی ڈرونز نے اپنا مشن کامیابی سے مکمل کیا اور بحفاظت واپس لوٹ آئے۔ ایرانی تبصروں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر امریکا واقعی ایرانی ڈرون گرانے کی کوشش کرتا ہے تو ایران کے پاس بھی امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے، جس سے صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

اسی تناظر میں آبنائے ہرمز میں ایک اور واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے تیل سے لدے ایک امریکی جہاز کو روکنے کی کوشش کی، جس کے لیے چھ مسلح کشتیوں کا استعمال کیا گیا۔ تاہم امریکی جنگی جہازوں کی بروقت مداخلت سے یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں اس نوعیت کے واقعات عالمی توانائی سپلائی اور بحری سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

سیاسی محاذ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور وہ کسی نئی بڑی فوجی کارروائی، جسے انہوں نے ’’مڈنائٹ ہیمر‘‘ کہا، کے خواہاں نہیں۔ ان کے مطابق ایران اس معاملے میں ’’کسی حد تک سنجیدہ‘‘ ہے، مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ بات چیت کسی نتیجے تک پہنچے گی یا نہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں ایران کو ایک موقع دیا گیا تھا، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا، جس کے بعد سخت اقدامات کیے گئے۔

PALM BEACH, FLORIDA – DECEMBER 16: U.S. President-elect Donald Trump speaks at a news conference at Trump’s Mar-a-Lago resort on December 16, 2024 in Palm Beach, Florida. In a news conference that went over an hour, Trump announced that SoftBank will invest over $100 billion in projects in the United States including 100,000 artificial intelligence related jobs and then took questions on Syria, Israel, Ukraine, the economy, cabinet picks, and many other topics. (Photo by Andrew Harnik/Getty Images)

ادھر اسرائیلی صحافی باراک راوِڈ کے مطابق ایران نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے ترکی کے بجائے عمان کو ثالث بنایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اس تجویز پر متفق نہیں، جس سے مذاکراتی عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کے بقول اگرچہ ٹرمپ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن موجودہ راستہ کامیاب ہونے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج میں فوجی جھڑپوں کے خطرات، متضاد اطلاعات اور سفارتی اختلافات اس بات کی علامت ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی فی الحال کم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ اگرچہ دونوں فریق کھلے تصادم سے گریز کا عندیہ دے رہے ہیں، مگر سمندر میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ حالات کو تیزی سے بدل سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button