
(تازہ حالات رپورٹ )
تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر ان چیف نے کہا ہے کہ آئی آر جی سی کی انٹیلیجنس پروٹیکشن آرگنائزیشن گزشتہ چالیس برسوں سے ایک اسٹریٹجک ذخیرے کے طور پر خاموش مگر نہایت مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس ادارے کی مسلسل، دانشمندانہ اور غیر نمایاں کاوشوں کے باعث فورس اور اس کے اہلکار دشمن کی دراندازی، تخریب کاری، نفسیاتی جنگ اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں سے محفوظ رہے ہیں۔
کمانڈر ان چیف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ ادارہ محض ردِعمل کی پالیسی پر نہیں بلکہ ذہین پیشگی حکمتِ عملی پر کام کرتا ہے۔ ان کے بقول، بروقت معلومات، مسلسل نگرانی، خطرات کی قبل از وقت نشاندہی اور اندرونی نظم و ضبط کے ذریعے دشمن کے منصوبوں کو عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی صحت، اخلاقی اقدار کا تحفظ، فکری بصیرت اور تنظیمی ہم آہنگی وہ ستون ہیں جن پر آئی آر جی سی کی مجموعی طاقت استوار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ معلوماتی جنگ، سائبر حملے، نفسیاتی دباؤ اور خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے اندر سے کمزور کرنے کی کوششیں بڑھ چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں اندرونی تحفظ اور انسدادِ دراندازی کی ذمہ داری کئی گنا زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق انٹیلیجنس پروٹیکشن آرگنائزیشن کی چوکسی اور پیش بینی ہی وہ عنصر ہے جو آئی آر جی سی کو مختلف حساس اور پیچیدہ مشنز میں کامیابی دلانے کا سبب بنتا ہے۔
بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ فورس کی روحانی و نظریاتی بنیادوں کا تحفظ محض عسکری طاقت جتنا ہی ضروری ہے۔ کمانڈر ان چیف کے مطابق دشمن اکثر فکری اور اخلاقی کمزوریوں کو نشانہ بناتا ہے، اس لیے اندرونی اتحاد، نظریاتی مضبوطی اور ادارہ جاتی اعتماد کو برقرار رکھنا قومی سلامتی کا لازمی جزو ہے۔

سیاسی و عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی، خفیہ سرگرمیوں اور غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت اس بیان کے ذریعے واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ داخلی استحکام اور ادارہ جاتی تحفظ کو قومی سلامتی کی حکمتِ عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا سازش کا مقابلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔
بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آئی آر جی سی کی انٹیلیجنس پروٹیکشن آرگنائزیشن آئندہ بھی خاموش مگر مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہے گی، مسلسل نگرانی، پیش بینی اور تنظیمی ہم آہنگی کے ذریعے فورس کی مجموعی صلاحیت کو مضبوط بنائے گی اور ایران کی قومی سلامتی کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔



