ایرانتازہ ترین

توانائی جنگ بنا کر ایران مخالفین کو اس نتیجے پر لا رہا ہے کہ نظام کمزور کیے بغیر جنگ ختم نہیں ہوگی۔

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران سے متعلق تنازع تیزی سے ایک پیچیدہ اور طویل جنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں حالات کے مزید بگڑنے کے امکانات تو واضح ہیں، مگر اس کے خاتمے کی کوئی ٹھوس صورت سامنے نہیں آ رہی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت خطے میں بیک وقت دو مختلف مگر جڑے ہوئے محاذ چل رہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دوسری جانب ایران عالمی معیشت، خصوصاً توانائی کے شعبے کو نشانہ بنا کر دباؤ بڑھا رہا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران نہ تو جدید امریکی و اسرائیلی فضائی طاقت کا مؤثر جواب دے پا رہا ہے، اور نہ ہی اپنے فضائی دفاع کے ذریعے ان حملوں کو مکمل طور پر روک سکا ہے۔ اس کے برعکس ایران نے ایک مختلف حکمت عملی اپناتے ہوئے عالمی توانائی سپلائی کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں خلیج کے اہم تیل و گیس مراکز اور آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے شامل ہیں۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، اس وقت کشیدگی کا مرکز بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ راستہ طویل عرصے تک متاثر رہتا ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس صورتحال کو ایران پر دباؤ بڑھانے کے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ امریکی قیادت، خصوصاً سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی کے حق میں نہیں ہوں گے جب تک ایران اپنی توانائی سے متعلق کارروائیاں بند نہیں کرتا۔

خلیجی ممالک، جو پہلے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے، اب کھل کر ایران کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد ان ممالک کا مؤقف مزید سخت ہو گیا ہے اور وہ ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنے کے حق میں نظر آتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے ابتدائی اہداف مختلف تھے، مگر موجودہ صورتحال نے انہیں ایک مشترکہ حکمت عملی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس اتحاد کے نتیجے میں ایران پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

تاہم سب سے اہم سوال اب بھی یہی ہے کہ اس جنگ کا اختتام کیسے ہوگا۔ سفارتی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی، جبکہ عسکری کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر فوری طور پر مذاکرات کا کوئی مؤثر راستہ نہ نکالا گیا تو یہ تنازع نہ صرف طویل ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جہاں ایک طرف توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور دوسری جانب ایک وسیع جنگ کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button