ایرانتازہ ترین

روس-کے-حملے-جاری-یوکرین-میں-ایک-روز-میں-9-افراد-ہلاک-تین-کمسن-بچے-بھی-شامل

تازہ حالات رپورٹ

کیف: یوکرینی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روسی حملوں میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے ہیں، جن میں تین کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ میدانِ جنگ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

یوکرین کی فضائیہ کے مطابق رات بھر میں روس کی جانب سے 129 ڈرون داغے گئے، جن میں سے 112 کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا، تاہم کم از کم 15 ڈرون مختلف مقامات پر جا گرے جس سے آٹھ علاقوں میں نقصان ہوا۔

خارکیف ریجن کے شہر بوہودوخیو میں ایک حملے میں چار افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں دو اور ایک سال کی عمر کے تین بچے بھی شامل تھے۔ صوبائی گورنر کے مطابق حملے میں ایک حاملہ خاتون سمیت دو افراد زخمی بھی ہوئے۔ دیگر دیہات میں بھی مکانات، پیٹرول پمپ اور ایک کیفے کو نقصان پہنچا۔

ڈونیٹسک ریجن کے شہر سلاویانسک میں گائیڈڈ بم حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک خاتون اور اس کا 11 سالہ بچہ شامل ہے، جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے۔ سومی، خیرسون اور زاپوریزہیا کے علاقوں میں بھی متعدد ہلاکتیں اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ ہر نیا حملہ سفارتی کوششوں کو کمزور کرتا ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ “روسی فوج رکنے کی تیاری نہیں کر رہی بلکہ لڑائی جاری رکھنے کی تیاری کر رہی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر مزید دباؤ اور یوکرین کے لیے واضح سکیورٹی ضمانتیں ضروری ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور یوکرین، امریکا اور روس کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بات چیت بھی زیرِ غور ہے۔ تاہم زمینی صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ محاذ پر جھڑپیں بدستور جاری ہیں اور شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے، جس کے باعث فوری جنگ بندی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button