اسرائیلتازہ ترین

ایران پر 2000 بم! اسرائیل کی بڑی فوجی کارروائی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )اسرائیلی فوج (IDF) کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے آغاز سے اب تک دو ہزار سے زائد بم اور گولہ بارود استعمال کیا جا چکا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ تعداد جون 2025 کی بارہ روزہ جنگ میں استعمال ہونے والے کل اسلحے کے تقریباً پچاس فیصد کے برابر ہے۔

اتوار کی شب جاری بیان میں اسرائیلی فضائیہ نے کہا کہ ہفتے کی صبح شروع ہونے والی کارروائی کے بعد بمباری کی رفتار اتنی تیز رہی کہ یہ جون 2025 کی چھ روزہ کارروائی کے برابر جا پہنچی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تیز رفتار حملہ حکمتِ عملی کا مقصد تہران کے فضائی دفاع کو جلد غیر مؤثر بنانا اور فضائی برتری حاصل کرنا تھا۔

ایران کے میزائل پروگرام کو بڑا ہدف

اسرائیلی حکام کے مطابق اس بار توجہ صرف میزائل فیکٹریوں تک محدود نہیں بلکہ اُن تمام بنیادی عناصر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو بیلسٹک میزائل پروگرام کو سہارا دیتے ہیں۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ جون 2025 میں ایران کے میزائل ذخیرے کو تقریباً 3 ہزار سے کم کر کے 1300 تک لایا گیا تھا، مگر آٹھ ماہ کے اندر ایران دوبارہ 2500 میزائلوں کی سطح پر پہنچ گیا۔

اسی تناظر میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس بار کوشش ہے کہ ایران کی دوبارہ تیاری کی صلاحیت کو طویل عرصے کے لیے پیچھے دھکیلا جائے۔ قم کے قریب ایک ایسے میزائل لانچ سائٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جہاں سینکڑوں کلوگرام دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس حملے سے اسرائیل کی جانب درجنوں ممکنہ میزائل داغے جانے کا خطرہ ٹل گیا۔

ایرانی فوجی تنصیبات اور کمانڈ مراکز پر حملے

IDF نے اتوار کو مزید اعلان کیا کہ اس نے ایرانی حکومت کے متعدد ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا، جن میں وزارتِ داخلہ اور تہران میں واقع “ثاراللہ” ہیڈکوارٹر شامل ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ مراکز مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرتے تھے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایران کے دو لڑاکا طیارے — ایک ایف 4 اور ایک ایف 5 — کو بھی اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ رن وے پر پرواز کی تیاری میں تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی فضائیہ جدید اسرائیلی ایف 15، ایف 16 اور ایف 35 طیاروں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، تاہم ڈرونز اور فضائی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔

امریکی کردار اور خطے کی صورتحال

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں تین امریکی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی حملوں میں ایران کے فضائی دفاع، میزائل تنصیبات اور بعض بحری اثاثوں کو بھی نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی راستے کو محفوظ رکھنا ہے۔ اس دوران لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں نے بھی تاحال براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونے کے اشارے دیے ہیں۔

جوہری تنصیبات پر خاموشی

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار جوہری تنصیبات پر براہِ راست حملوں کا ذکر محدود رہا ہے، حالانکہ جون 2025 کی کارروائی میں یہی بنیادی ہدف تھا۔ اسرائیلی اور امریکی حکام نے اصفہان کے کچھ حصوں کو نشانہ بنانے کی مبہم تصدیق کی ہے، تاہم افزودہ یورینیم کے ذخائر یا نتنز کے قریب زیرِ زمین تنصیبات کے بارے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ کارروائی طویل ہوتی ہے تو اس کے خطے اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسرائیلی حکام فی الحال مزید کئی دن یا ہفتوں تک کارروائی جاری رکھنے کی امید ظاہر کر رہے ہیں، تاکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button