
(تازہ حالات رپورٹ )
اسرائیلی ٹی وی چینل 14 نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر نئی "آپریشنل منصوبہ بندی” مکمل کر لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایران کے خلاف "اعلیٰ درجے کی چوکسی” پر ہے اور ضرورت پڑنے پر دفاعی پوزیشن سے فوری طور پر جارحانہ کارروائی کی طرف منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چینل نے ایک نامعلوم اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اگر اسرائیل پر کسی بھی محاذ سے حملہ ہوا تو اس کے پاس "تمام میدانوں کے لیے مؤثر حملہ آور منصوبے” تیار ہیں۔
لبنان، یمن اور غزہ کا حوالہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ لبنان کے محاذ پر کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں، اور حزب اللہ کو مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اسی طرح یمن کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ اگر حوثی گروہ کی جانب سے دوبارہ خطرہ محسوس ہوا تو اسرائیل کارروائی کے لیے تیار ہے۔
غزہ کے بارے میں چینل 14 نے کہا کہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ کسی بھی تعمیرِ نو کا عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک علاقے کو غیر مسلح نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی فوج مبینہ طور پر ایسے ہنگامی منصوبے بھی تیار کر رہی ہے جو کسی سیاسی معاہدے کے ٹوٹنے کی صورت میں نافذ کیے جا سکیں۔
واشنگٹن میں سفارتی سرگرمیاں

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ امریکا کو ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہیے اور ان کے خیال میں آئندہ ایک ماہ کے اندر پیش رفت ممکن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو "نتائج سنگین ہو سکتے ہیں”۔
ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم Benjamin Netanyahu نے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ سفارتی کوششیں کسی ایسے معاہدے پر منتج ہوں گی جو اسرائیل کے بنیادی خدشات کو مدِنظر رکھے۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور خطے میں اس سے منسلک گروہوں کی سرگرمیوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔

بدلتا علاقائی منظرنامہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے نئی منصوبہ بندی کی خبریں خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے متوازی چل رہی ہیں۔ ایک طرف امریکا ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی بات کر رہا ہے، تو دوسری جانب اسرائیل عسکری تیاریوں کو نمایاں کر کے دباؤ کی حکمت عملی اپناتا دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتے اس معاملے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی راستہ ہموار ہوا تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے، بصورتِ دیگر فوجی بیانات اور عملی تیاریوں میں اضافہ خطے کو مزید غیر یقینی صورتحال کی طرف لے جا سکتا ہے۔



