
(تازہ حالات رپورٹ )
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز نے ایک فلسطینی خاندان کا گھر مسمار کر دیا، جس کے نتیجے میں 21 افراد بے گھر ہو گئے۔ فلسطینی حقوق تنظیموں کے مطابق یہ کارروائی اتوار کو قلقیلیہ کے شمال میں واقع قصبے جِیوس میں کی گئی۔
البدار نامی بدوی حقوق گروپ نے بتایا کہ تقریباً 160 مربع میٹر پر مشتمل مکان کو “بلڈنگ پرمٹ نہ ہونے” کے الزام میں گرایا گیا۔ متاثرہ خاندان میں بچے اور بزرگ افراد بھی شامل ہیں، جو اب کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔
پرمٹ کا مسئلہ اور ایریا سی
مغربی کنارے کے ایریا سی میں تعمیرات کے لیے اسرائیلی اجازت نامہ درکار ہوتا ہے، تاہم فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ اجازت نامے حاصل کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق انہدامی کارروائیاں فلسطینی آبادی پر دباؤ بڑھانے اور زمین پر حقائق تبدیل کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔
کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق صرف جنوری میں 59 انہدامی کارروائیاں کی گئیں، جن میں 126 ڈھانچے نشانہ بنے، جن میں 77 آباد مکانات بھی شامل تھے۔ مزید 40 مسماری نوٹس بھی جاری کیے گئے، جن کی بڑی تعداد الخلیل (ہیبرون) میں تھی۔

زمین کی رجسٹریشن اور کشیدگی
اسی ہفتے اسرائیلی حکومت نے پہلی بار 1967 کے بعد مغربی کنارے کے وسیع رقبے کو “ریاستی ملکیت” کے طور پر رجسٹر کرنے کی منظوری دی۔ فلسطینی حکام اس اقدام کو عملی الحاق (de facto annexation) کی جانب قدم قرار دے رہے ہیں۔
اکتوبر 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی اندازوں کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 1,100 سے زائد افراد ہلاک، 11 ہزار سے زیادہ زخمی اور 21 ہزار سے زائد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
گزشتہ سال بین الاقوامی عدالت انصاف نے ایک رائے میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے اور مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں آباد تمام بستیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔
موجودہ صورتحال میں مقامی آبادی بے یقینی اور خوف کا شکار ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔



