
(تازہ حالات رپورٹ )
تل ابیب: امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی موجودہ اسلامی حکومت برقرار رہی تو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن ایک بار پھر بگڑ سکتا ہے، حماس دوبارہ مسلح ہو کر اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور ابراہام معاہدے بھی کمزور پڑ سکتے ہیں۔
یروشلم پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں گراہم نے کہا کہ ایران اس وقت داخلی دباؤ اور عوامی احتجاج کے باعث “نازک مرحلے” سے گزر رہا ہے اور امریکہ کو ایرانی عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں، بصورت دیگر نتائج افغانستان سے امریکی انخلا سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں
سینیٹر گراہم نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو، اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے ایک بڑے عوامی اجتماع میں بھی شرکت کی جہاں ایران کی موجودہ قیادت کے خلاف مظاہرین نے شرکت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی واقعات نے ایک “تاریخی موقع” پیدا کیا ہے جس کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی سمت طویل عرصے کے لیے تبدیل کی جا سکتی ہے۔
ابراہام معاہدوں پر اثرات
گراہم نے کہا کہ اگر تہران کی موجودہ حکومت برقرار رہتی ہے تو اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان ہونے والے ابراہام معاہدوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ان معاہدوں کی بنیاد خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے پر تھی، اور اگر ایران مضبوط رہا تو علاقائی اعتماد متاثر ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ “اگر ہم نے اپنے اتحادیوں اور ایرانی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہ کیے تو عالمی سطح پر اعتماد کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔”
حماس اور علاقائی سیکیورٹی
گراہم کے مطابق ایران کی حمایت سے حماس اور دیگر گروہ دوبارہ منظم ہو سکتے ہیں، جس سے اسرائیل کی سلامتی کو نئے چیلنجز درپیش ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد خطے کی صورتحال یکسر بدل گئی ہے اور ایران پر دباؤ بڑھا ہے۔
دوسری جانب ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ خطے میں اپنی پالیسیوں کو دفاعی حکمت عملی قرار دیتا ہے اور بیرونی دباؤ کو مسترد کرتا ہے۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال سفارتی سرگرمیوں، علاقائی اتحادوں اور اندرونی سیاسی تبدیلیوں کے ایک پیچیدہ امتزاج کی عکاسی کرتی ہے، جس کے نتائج آنے والے مہینوں میں واضح ہوں گے۔



