ایرانتازہ ترین

ایران پر بڑا حملہ شروع! تہران میں خوفناک دھماکے، آیت اللہ خامنہ ای کہاں گئے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے۔ ہفتے کی صبح امریکا اور اسرائیل نے ایران پر ایک بڑا اور مشترکہ فوجی حملہ کر دیا ہے۔ دارالحکومت تہران سمیت کئی اہم ایرانی شہروں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جب کہ کشیدہ ترین صورتحال کے پیشِ نظر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو فوری طور پر ایک انتہائی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ہفتے کی صبح شروع ہونے والے اس اچانک اور مشترکہ آپریشن میں دارالحکومت تہران کے علاوہ قم، اصفہان، کرمانشاہ اور کرج میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ امریکی حکام اور سیکیورٹی ذرائع نے غیر ملکی نیوز ایجنسیوں سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ اس کارروائی میں واشنگٹن شامل ہے اور یہ حملے فضا اور سمندر دونوں اطراف سے کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس غیر معمولی آپریشن کی منصوبہ بندی کئی مہینوں سے خفیہ طور پر جاری تھی، اور اس پر عمل درآمد کا وقت کئی ہفتے قبل ہی طے کر لیا گیا تھا۔

اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ

دوسری جانب، ایران پر اس بڑے حملے کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل نے ملک بھر میں ہنگامی حالت (اسٹیٹ آف ایمرجنسی) کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے تمام شہریوں کو ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں (بِنکرز) کے قریب رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ نے ملک بھر کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔ ان احکامات کے تحت ملک میں تمام تعلیمی سرگرمیاں، عوامی اجتماعات اور عام دفاتر فوری طور پر بند کر دیے گئے ہیں اور نظامِ زندگی کو ‘مکمل سرگرمی’ سے تبدیل کر کے صرف ‘انتہائی ضروری سرگرمیوں’ تک محدود کر دیا گیا ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایمرجنسی پورٹل اور سرکاری ایپس کے ذریعے جڑے رہیں۔

خطے کی صورتحال اور پسِ منظر

یاد رہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں پراکسی وار اور بیانات کی حد تک کشیدگی مسلسل عروج پر تھی۔ اصفہان اور قم جیسے شہروں (جو کہ ایران کی عسکری اور جوہری تنصیبات کے حوالے سے بھی حساس سمجھے جاتے ہیں) میں دھماکوں کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس مشترکہ کارروائی کے اہداف انتہائی اسٹریٹجک نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ اس تازہ ترین پیش رفت نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ چھڑنے کے خدشات میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین اب ایران کے ممکنہ جوابی ردعمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button