امریکاتازہ ترین

امریکا کا ایران پر بڑا حملہ: ڈونلڈ ٹرمپ کی پاسدارانِ انقلاب کو وارننگ ہتھیار ڈال دو

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی صبح ایران کے خلاف ایک بڑے اور جامع فوجی آپریشن کے آغاز کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، اس پیشگی اور اچانک حملے میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان مکمل کوآرڈینیشن شامل ہے، جس کا مقصد خطے میں موجود ‘فوری خطرات’ کا مستقل خاتمہ کرنا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ایک "بڑے پیمانے پر” مہم شروع کر دی ہے۔ اس آپریشن کے بنیادی اہداف میں ایران کا جوہری پروگرام، میزائل فورسز اور انڈسٹری، بحریہ، اور مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم ان کی پراکسیز (حمایت یافتہ مسلح گروہوں) کو مکمل طور پر تباہ کرنا شامل ہے۔

حکومت کی تبدیلی اور پاسدارانِ انقلاب کو وارننگ

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس غیر معمولی کارروائی کو واضح طور پر ‘حکومت کی تبدیلی کی جنگ’ (Regime Change War) قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لیں۔ امریکی صدر نے پاسدارانِ انقلاب (IRGC)، مسلح افواج اور پولیس کو براہِ راست اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا:

"آپ کو اپنے ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کو مکمل استثنیٰ اور منصفانہ سلوک ملے گا، بصورتِ دیگر آپ کو یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

امریکی قیادت کا دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی کہنا تھا کہ اس حکومت کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس مشن کا اولین مقصد امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے، تاہم انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اس بڑی کارروائی میں امریکی افواج کو بھی جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، گو کہ اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا گیا ہے۔

ایران کے اندرونی حالات اور خامنہ ای کی محفوظ مقام پر منتقلی

زمینی حقائق اور غیر ملکی رپورٹس (بشمول رائٹرز) کے مطابق، یہ حملے فضا اور سمندر کے ذریعے کیے جا رہے ہیں اور حکام کے مطابق دن گزرنے کے ساتھ ان کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی کئی مہینوں سے جاری تھی اور اس کا وقت کئی ہفتے پہلے ہی طے کر لیا گیا تھا۔

ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ سمیت وسطی تہران میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر ایران نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔ دوسری جانب ایک ایرانی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں موجود نہیں ہیں اور انہیں فوری طور پر ایک نامعلوم اور انتہائی "محفوظ مقام” پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

خطے کی بگڑتی صورتحال کا تناظر

یہ کارروائی مشرقِ وسطیٰ کی دہائیوں پر محیط کشیدگی کو ایک براہِ راست اور ہولناک جنگ میں دھکیل رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان زبانی اور سفارتی جنگ پہلے ہی عروج پر تھی۔ اب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ تہران اس تباہ کن حملے کا کیا اور کس حد تک جوابی ردعمل دیتا ہے، جو یقینی طور پر پورے خطے کے جغرافیائی اور سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button