
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) — ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے بعد یورپ میں اس جنگ کے حوالے سے محتاط اور مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ گزشتہ ایک سال کے دوران یورپی ممالک پر سخت تنقید کرتی رہی، تاہم اب واشنگٹن اس تنازع میں یورپی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی سے پہلے اپنے یورپی اتحادیوں سے وسیع مشاورت نہیں کی، جس کے باعث یورپی دارالحکومتوں میں حیرت اور تشویش پیدا ہوئی۔ اگرچہ کئی یورپی ممالک خطے میں اپنے فوجی اڈوں اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اضافی دفاعی اقدامات کر رہے ہیں، لیکن وہ براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔
فرانس، اٹلی اور دیگر ممالک نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی وسائل کو مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہاں موجود اپنے شہریوں اور فوجی تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ برطانیہ نے بھی امریکہ کو اپنے بعض فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے، تاہم برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعاون محدود نوعیت کا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی رہنما اس جنگ کے ممکنہ نتائج کے بارے میں محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع طویل ہو گیا تو اس کے اثرات یورپ تک پہنچ سکتے ہیں، جن میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، مہاجرین کی نئی لہر اور علاقائی عدم استحکام شامل ہو سکتے ہیں۔
بعض یورپی رہنماؤں نے اس جنگ کے قانونی اور سیاسی پہلوؤں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اٹلی کے وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ ایک ایسا فیصلہ تھا جس میں یورپی ممالک کو پہلے سے شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے خبردار کیا کہ عالمی تنازعات کا حل بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر تلاش کیا جانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ اس وقت ایک مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور ایران کے بعض اقدامات پر تحفظات بھی رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی بڑی جنگ کے خطرات سے بھی بچنا چاہتا ہے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق اس صورتحال نے ایک بار پھر امریکہ اور یورپ کے درمیان تعلقات کی حساسیت کو نمایاں کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا مغربی اتحادی ایران کے معاملے پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں یا پالیسی اختلافات مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔



