امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کا ‘ون مین شو: کیا اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ گیا؟ اہم انکشافات

معاریف اسحاق بریک—-(تازہ حالات رپورٹ )

اسرائیلی حلقوں میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے جس میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طرزِ سیاست بالآخر اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ایک تجزیاتی رائے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی شخصیت اور ان کا اندازِ قیادت بعض اوقات پالیسی کے تقاضوں پر حاوی ہو جاتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے اتحادیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

خواہش اور حقیقت کے درمیان خلا

سیاسی نظریات میں عموماً “موجودہ صورتحال” اور “مطلوبہ ہدف” کے درمیان توازن کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال سے مراد زمینی حقائق، معاشی حالات اور سیکیورٹی چیلنجز ہوتے ہیں، جبکہ مطلوبہ ہدف نظریاتی وژن یا سیاسی وعدوں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے معاملے میں ایک تیسرا عنصر، یعنی ان کی ذاتی انا، اس توازن کو متاثر کرتی دکھائی دیتی ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حقیقت ان کے بیانیے سے مطابقت نہ رکھے تو اسے مسترد کر دیا جاتا ہے، جبکہ مشکل فیصلوں کے بجائے بعض اوقات بڑے اور جاذبِ نظر اعلانات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے پالیسی سازی میں تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔

قومی مفاد یا ذاتی بیانیہ؟

رائے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب کسی رہنما کی شخصیت سیاست کا مرکز بن جائے تو قومی مفاد اور ذاتی مفاد کے درمیان لکیر دھندلی ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں:

  • خارجہ پالیسی بعض اوقات ذاتی تعلقات یا اختلافات کے زیرِ اثر آ سکتی ہے۔
  • ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ آئینی حدود کی یاد دہانی کرائیں۔
  • کامیابیوں کا کریڈٹ ذاتی کارکردگی کو دیا جاتا ہے جبکہ ناکامیوں کا الزام اندرونی مخالفین یا “اسٹیبلشمنٹ” پر عائد کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کے لیے ممکنہ مضمرات

مصنف کے مطابق اگر امریکہ کی پالیسی زیادہ شخصی انداز اختیار کر لے تو اسرائیل جیسے اتحادی ملک کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول اس بات کا خدشہ موجود رہتا ہے کہ کسی بڑے بحران کے وقت واشنگٹن کی ترجیحات اچانک تبدیل ہو جائیں، جس سے اسرائیل کو سفارتی یا سیکیورٹی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم دوسری جانب ٹرمپ کے حامی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ ان کے دور میں امریکہ نے اسرائیل کے حق میں کئی اہم فیصلے کیے، جن میں سفارتی اور دفاعی تعاون کی مضبوطی شامل تھی۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا انداز روایتی سیاست سے ہٹ کر ضرور ہے، مگر اسے کمزوری کے بجائے فیصلہ کن قیادت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

نتیجہ

مبصرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ مضبوط شخصیت رکھتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ان کی قیادت امریکی ادارہ جاتی نظام اور عالمی اتحادیوں کے ساتھ توازن قائم رکھ سکتی ہے۔ اسرائیل جیسے ممالک کے لیے امریکہ کی پالیسی میں تسلسل اور پیش بینی انتہائی اہم ہے، اور اسی تناظر میں یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button