تائیوان نے مغربی ساحل پر پہلی بار ہائیمارس راکٹ سسٹم کی فائرنگ کی مشق کر لی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تائیوان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کے مظاہرے کے طور پر مغربی ساحل پر پہلی مرتبہ امریکی ساختہ ہائیمارس (HIMARS) راکٹ سسٹم کی براہِ راست فائرنگ کی مشق انجام دی ہے۔ یہ علاقہ اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسے چین کی ممکنہ فوجی پیش قدمی کے اہم راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تائیوانی فوج کے مطابق مشق کے دوران 36 راکٹ فائر کرنے کا منصوبہ تھا، جن میں سے 32 کامیابی کے ساتھ اپنے اہداف کی جانب داغے گئے۔ تاہم چار راکٹ فائر نہ ہو سکے، جن کی ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ مشق اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے قبل ہائیمارس سسٹم کی تمام بڑی مشقیں تائیوان کے مشرقی ساحل پر کی جاتی رہی تھیں۔ مغربی ساحل پر پہلی مرتبہ اس نظام کا استعمال اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ تائیوان اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو ممکنہ خطرات کے مطابق مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
ہائیمارس راکٹ سسٹم اپنی تیز رفتار نقل و حرکت، درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی خصوصیات کی وجہ سے جدید جنگی میدان میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس نظام نے مختلف تنازعات میں بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
تائیوان اور چین کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں اس مشق کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان خود کو ایک خودمختار جمہوری نظام کے طور پر چلاتا ہے۔ اسی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان فوجی اور سیاسی تناؤ وقتاً فوقتاً عالمی توجہ کا مرکز بنتا رہتا ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تائیوان کی جانب سے جدید امریکی دفاعی نظاموں کی عملی مشقیں نہ صرف اس کی جنگی تیاریوں کا حصہ ہیں بلکہ یہ خطے میں طاقت کے توازن اور دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اہم پیغام سمجھی جا رہی ہیں۔



