ایرانتازہ ترین

ایران میں بغاوت کی تیاری؟ سی آئی اے کے کرد فورسز کو مسلح کرنے کے منصوبے کا دعویٰ

واشنگٹن /(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) — امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ایران میں ممکنہ عوامی بغاوت کو ہوا دینے کے لیے کرد مسلح گروہوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے بارے میں آگاہ متعدد ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایرانی اپوزیشن اور عراق میں موجود کرد رہنماؤں سے رابطے میں ہے تاکہ انہیں ممکنہ فوجی معاونت فراہم کی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی کرد مسلح گروہ برسوں سے عراق-ایران سرحد کے قریب سرگرم ہیں اور ان کے ہزاروں جنگجو عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے میں موجود ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے دوران ان گروہوں نے ایسے بیانات جاری کیے ہیں جن میں ایرانی سکیورٹی فورسز سے الگ ہونے اور حکومت کے خلاف کارروائی کے اشارے دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی اسلامی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سرحدی علاقوں میں کرد گروہوں کے ٹھکانوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے ایرانی کرد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان (KDPI) کے رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان گروہوں کی جانب سے مغربی ایران میں زمینی کارروائی کے امکان پر بھی بات چیت ہو رہی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ممکنہ حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے؟

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایران کے سکیورٹی اداروں کو مختلف محاذوں پر مصروف کرنا ہو سکتا ہے، تاکہ بڑے شہروں میں ممکنہ عوامی احتجاج کو زیادہ موقع مل سکے۔ ایک سابق امریکی دفاعی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ اگر کرد جنگجو سرحدی علاقوں میں کارروائیاں شروع کریں تو اس سے ایرانی سکیورٹی فورسز کی توجہ بٹ سکتی ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم بعض ماہرین اس حکمت عملی کو خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ سابق امریکی محکمہ خارجہ کی عہدیدار جین گاویٹو کے مطابق اگر ایسے گروہوں کو مسلح کیا گیا تو اس کے اثرات پورے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں اور عراق کی خودمختاری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اسرائیل اور علاقائی صورتحال

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے عراق کی سرحد کے قریب ایرانی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے، جسے بعض ذرائع ممکنہ زمینی کارروائیوں کے لیے ماحول تیار کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ تاہم اسرائیل اور امریکہ دونوں نے اس حوالے سے کسی مشترکہ حکمت عملی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

کردوں کے ساتھ امریکہ کا پیچیدہ تعلق

کرد دنیا کی ایک بڑی نسلی اقلیت ہیں جن کی آبادی تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 3 کروڑ کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔ ان کی اکثریت ترکی، عراق، ایران اور شام کے سرحدی علاقوں میں آباد ہے۔ امریکہ نے ماضی میں بھی مختلف مواقع پر کرد گروہوں کے ساتھ تعاون کیا ہے، خاص طور پر عراق جنگ اور داعش کے خلاف کارروائیوں کے دوران۔

تاہم کرد قیادت کے بعض حلقے ماضی میں امریکہ پر یہ تنقید بھی کرتے رہے ہیں کہ واشنگٹن نے اہم مواقع پر انہیں تنہا چھوڑ دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اگر کوئی نئی شراکت داری بنتی ہے تو اس کے لیے دونوں جانب اعتماد کا مسئلہ ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

غیر یقینی صورتحال

سی آئی اے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ امریکی حکام بھی کھل کر اس منصوبے کی تصدیق نہیں کر رہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں کسی بڑے عوامی انقلاب کے امکانات کا دارومدار صرف بیرونی حمایت پر نہیں بلکہ داخلی سیاسی اور سماجی عوامل پر بھی ہوگا۔

خطے میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یہ معاملہ ایک نئے جغرافیائی سیاسی تنازع کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات ایران، عراق اور پورے مشرقِ وسطیٰ پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button