ایرانتازہ ترین

قطر پر داغے گئے ایرانی میزائل حملے کی مذمت کرتے ہیں قطری وزارت خارجہ کا ایران کے حالیہ حملے پر مذمتی بیان جاری

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): قطر نے اپنے علاقوں پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے 28 فروری کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے قطر کی سلامتی اور استحکام پر براہِ راست حملہ ہیں اور انہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

قطری وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ ملک بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مناسب ردعمل کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ردعمل کی نوعیت مبینہ جارحیت کے تناسب سے طے کی جائے گی۔

مکالمے کی حمایت، مگر حملے ناقابلِ قبول

قطر نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ماضی میں بھی ایران کے ساتھ مکالمے اور سفارتی حل کی حمایت کرتا رہا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرتا آیا ہے۔ بیان کے مطابق قطر نے ہمیشہ علاقائی تنازعات سے خود کو دور رکھنے اور ایران و عالمی برادری کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔

تاہم وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے “حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں” کے منافی ہیں اور دوطرفہ تعلقات کی بنیاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

خلیجی ممالک سے یکجہتی

قطر نے کویت، متحدہ عرب امارات، اردن اور بحرین کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی بھی مذمت کی اور ان ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ قطر خطے کے استحکام اور سلامتی کے لیے مشترکہ اقدامات کی حمایت کرے گا۔

کشیدگی کم کرنے کی اپیل

قطری حکام نے تمام فریقین سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، مکالمے کی میز پر واپس آنے اور عقل و دانش سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق خطے کو وسیع تر تصادم سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج میں حالیہ پیش رفت نے سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، اور آئندہ چند دنوں میں علاقائی و عالمی طاقتوں کی سفارتی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button