
دوحہ/لندن: قطر نے خطے میں تجارتی جہازوں اور بحری انفراسٹرکچر پر ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں اور دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور جہاز رانی کی آزادی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ مؤقف قطر کے برطانیہ میں سفیر اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) میں مستقل نمائندے شیخ عبداللہ بن محمد بن سعود آل ثانی نے تنظیم کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کے دوران پیش کیا، جہاں خلیجی ممالک پر حملوں اور سمندری راستوں کی سکیورٹی پر غور کیا گیا۔
آبنائے ہرمز پر تشویش
قطری نمائندے نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی دھمکیاں انتہائی خطرناک ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف عالمی تجارت بلکہ توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی سکیورٹی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔
اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت
قطر نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ان حملوں کی واضح مذمت کی گئی ہے۔ دوحہ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے۔

جہاز رانی اور ملاحوں کی حفاظت
قطری سفیر نے کہا کہ حالیہ حملوں نے نہ صرف جہاز رانی کے تحفظ کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ ملاحوں کی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک کی سکیورٹی کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔
عالمی تجارت پر اثرات
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی سپلائی چین، تیل و گیس کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور بحری راستوں کی سکیورٹی عالمی سطح پر ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق قطر کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اب بحری سکیورٹی کے معاملے پر زیادہ سخت اور واضح پالیسی اپنا رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری سے بھی فعال کردار ادا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو نہ صرف خطہ بلکہ عالمی معیشت بھی ایک بڑے بحران کا سامنا کر سکتی ہے۔



