
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ تہران میں ایک “اچانک اور مربوط حملے” کے دوران ایران کے سات اعلیٰ فوجی اور سیکیورٹی رہنما مارے گئے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائی دو مقامات پر کی گئی جہاں مبینہ طور پر اعلیٰ کمانڈر اجلاس میں موجود تھے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں کی اور بعض رپورٹس کو “افواہیں” قرار دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ “کمانڈروں کی شہادت سے جنگ کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا” اور نظام میں فوری طور پر متبادل قیادت مقرر کرنے کا طریقہ کار موجود ہے۔
کن شخصیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ؟
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد پاکپور، دفاعی کونسل کے سربراہ علی شمخانی، اور دیگر سینیئر عسکری و انٹیلی جنس افسران شامل ہیں۔

رپورٹس میں جن ناموں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں:
- علی شمخانی: سابق وزیرِ دفاع اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق سیکریٹری، جنہوں نے ماضی میں ایران۔سعودی تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں کردار ادا کیا تھا۔
- محمد پاکپور: پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ، جن پر اسرائیل کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی قیادت کا الزام لگایا جاتا رہا۔
- عزیز ناصرزادہ: ایران کے وزیرِ دفاع، جو ماضی میں فضائیہ کے سینئر افسر رہ چکے ہیں۔
- دیگر سینیئر افسران جن کے بارے میں اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اسٹریٹجک اور انٹیلی جنس امور سے وابستہ تھے۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور ایرانی سرکاری میڈیا نے کئی ناموں کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی کردار
امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں تقریباً 40 ایرانی اہلکار ہلاک ہو سکتے ہیں، تاہم واشنگٹن یا تہران کی جانب سے باضابطہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
اسرائیلی اخبار معاریو کے مطابق ایک سینئر دفاعی عہدیدار نے اس کارروائی کو “انتہائی پیچیدہ اور منظم دھوکہ دہی کی آپریشن” قرار دیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی اور امریکی فضائی افواج نے کارروائی کے دائرہ کار کو تقسیم کیا اور بیک وقت سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق 200 سے زائد طیاروں نے درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں میزائل فائر کیے۔
صورتحال غیر واضح
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کا فوجی ڈھانچہ منظم ہے اور کسی بھی ہلاکت کے بعد فوری طور پر نئی تقرریاں کی جا سکتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر واقعی اتنی بڑی تعداد میں اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچا ہے تو اس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم متضاد اطلاعات کے باعث زمینی حقائق تاحال واضح نہیں۔
خطے میں کشیدگی بدستور عروج پر ہے، اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ آنے والے دنوں میں سرکاری بیانات اور مزید شواہد اس بحران کی اصل نوعیت کو واضح کر سکتے ہیں۔



