
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران جاری کشیدگی کو “باعزت انداز” میں ختم کرنا چاہتا ہے، تاہم ملک کے جوہری حقوق پر کسی قسم کا دباؤ یا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ایرانی صدر نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ایران کو اس کے جوہری حقوق سے محروم کرے۔ ان کے مطابق ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے، بشرطیکہ یہ عمل باہمی احترام پر مبنی ہو۔

پزشکیان نے اسرائیل پر بھی شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے بلکہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم افراد، خصوصاً خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں پر عالمی اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لیں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو یکساں اصول اپنانے چاہئیں تاکہ کسی بھی ملک کو بلا روک ٹوک کارروائی کی اجازت نہ ملے۔
ماہرین کے مطابق ایران کا حالیہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک جانب سفارتی حل کا خواہاں ہے، جبکہ دوسری جانب اپنے اسٹریٹجک اور دفاعی مؤقف پر سختی سے قائم بھی رہنا چاہتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ بیانات خطے میں جاری طاقت کے توازن اور مستقبل کی سفارتی پیش رفت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔



