اسرائیلتازہ ترین

ایرانی میڈیا میں نیتن یاہو کی ہلاکت کی افواہیں، اسرائیلی ذرائع نے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دے دیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی میڈیا میں اسرائیلی وزیرِاعظم Benjamin Netanyahu کی ہلاکت یا زخمی ہونے سے متعلق افواہیں گردش کرنے لگیں، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے Tasnim News Agency نے ایک رپورٹ میں یہ قیاس آرائیاں پیش کیں کہ ممکن ہے نیتن یاہو کسی حملے میں زخمی یا ہلاک ہو گئے ہوں۔ رپورٹ میں اس دعوے کے ثبوت کے طور پر چند بالواسطہ نکات کا ذکر کیا گیا، جن میں حالیہ دنوں میں نیتن یاہو کی نئی ویڈیو فوٹیج کی عدم موجودگی، ان کی رہائش گاہ کے اردگرد سیکیورٹی میں اضافہ اور بعض سفارتی ملاقاتوں کے شیڈول میں تبدیلی شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں ایک سابق امریکی انٹیلی جنس افسر Scott Ritter سے منسوب دعویٰ بھی شامل کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے مبینہ طور پر نیتن یاہو کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ تاہم خود ایرانی رپورٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ اس دعوے کی سرکاری طور پر نہ تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی تردید۔

دوسری جانب دستیاب سرکاری معلومات ان قیاس آرائیوں کی تردید کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق نیتن یاہو نے 7 مارچ کو ایک باضابطہ بیان جاری کیا جبکہ اس سے ایک دن قبل وہ جنوبی اسرائیل کے شہر بیرشیبا میں ایک حملے کی جگہ کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں اس نوعیت کی اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) عام ہوتی ہے جس میں جزوی یا غیر مصدقہ معلومات کو ملا کر سنسنی خیز دعوے سامنے لائے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تیزی سے بدلتی صورتحال میں کسی رہنما کی نئی ویڈیو یا تصویر سامنے نہ آنے سے بھی افواہوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی جنگ کے دوران ایرانی ذرائع کی جانب سے نیتن یاہو کی حالت یا مقام سے متعلق دعوے سامنے آئے تھے جنہیں بعد میں اسرائیلی حکام نے "جعلی خبریں” قرار دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق موجودہ تنازع میں صرف عسکری محاذ ہی نہیں بلکہ معلوماتی اور میڈیا محاذ بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں مختلف بیانیے اور دعوے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button