
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے گرد پیدا ہونے والے بحران اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پس منظر میں روس یورپ کو گیس کی فراہمی روکنے پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور یہ صرف ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیرِ غور ہے۔
روسی صدر نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین روسی گیس اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی خریداری پر پابندی لگانے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے، جس کے بعد ماسکو کے لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا موجودہ حالات میں یورپ کو گیس کی فراہمی جاری رکھنا فائدہ مند بھی ہے یا نہیں۔
پوٹن کے مطابق ایران کے خلاف حالیہ حملوں اور اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی کی ترسیل کے ایک اہم راستے آبنائے ہرمز کو بھی متاثر کیا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس سمندری گزرگاہ میں جہاز رانی محدود ہو گئی ہے، جبکہ قطر کی مائع قدرتی گیس کی پیداوار اور سعودی عرب کی ایک بڑی آئل ریفائنری کی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ ان عوامل نے عالمی منڈیوں میں توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

پوٹن نے یہ بھی کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ایران کے خلاف کارروائیاں اور دوسری وجہ روسی توانائی کے شعبے پر مغربی پابندیاں ہیں۔ ان کے بقول یورپی ممالک اس وقت گیس کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث سپلائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ادھر یورپی یونین پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ 2027 تک روسی پائپ لائن گیس کی درآمدات مکمل طور پر ختم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ 2026 سے روسی LNG کے نئے قلیل مدتی معاہدوں پر بھی پابندی لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔
ان اقدامات کے بعد روس نے اپنی توانائی کی برآمدات کا رخ بتدریج ایشیائی منڈیوں خصوصاً چین کی طرف موڑنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس واقعی یورپ کو گیس کی فراہمی روک دیتا ہے تو اس سے یورپی توانائی منڈیوں میں نئی ہلچل پیدا ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
عالمی توانائی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے توانائی کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سیاست کا مرکزی عنصر بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور یورپ کی توانائی پالیسی عالمی گیس اور تیل کی منڈیوں کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔



