امریکاتازہ ترین

سیٹلائٹ تصاویر میں انکشاف، امریکی اڈوں کو نقصان؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن/تہران: ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کے بعد امریکی فوجی آپریشن “ایپک فیوری” کی مؤثریت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ فضائی جھڑپوں میں ایران نے کم لاگت مگر مؤثر ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکی دفاعی نظام کے لیے ایک چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔

سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے میں بعض مقامات پر انفراسٹرکچر کو نقصان، گاڑیوں کی تباہی اور رن ویز کے قریب دھماکوں کے نشانات دیکھے گئے ہیں، تاہم ان نقصانات کی مکمل تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی۔ امریکی حکام نے ان حملوں کے اثرات کو محدود قرار دیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے ان کارروائیوں کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگ میں ڈرونز کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں کم قیمت اور بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے ہتھیار مہنگے دفاعی نظام کو بھی چیلنج کر سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ڈرونز اسی حکمت عملی کی مثال سمجھے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ “آپریشن ایپک فیوری” مجموعی طور پر جاری ہے، لیکن ایسے حملے اس کی رفتار اور حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب مخالف فریق غیر روایتی طریقوں سے حملے کر رہا ہو۔

دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی فوجی صلاحیت اور دفاعی نظام اب بھی مضبوط ہیں اور وہ صورتحال کو قابو میں رکھے ہوئے ہیں، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مسلسل ڈرون حملے مستقبل میں مزید پیچیدہ چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران جنگ میں فضائی اور ڈرون جنگ ایک مرکزی عنصر بن چکی ہے، جہاں میدان جنگ کا توازن روایتی طاقت کے بجائے نئی ٹیکنالوجی اور حکمت عملی پر منحصر ہوتا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button