تازہ ترینسائنس ٹیکنالوجی

جنوبی کوریا کا بڑا دفاعی اعلان، نیا مقامی لڑاکا طیارہ متعارف

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات عالمی سطح پر دفاعی حکمت عملی کو تبدیل کر رہے ہیں، اور اسی تناظر میں جنوبی کوریا نے اپنا مقامی تیار کردہ جدید لڑاکا طیارہ متعارف کرا دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ملکی دفاع کو مضبوط بنانے بلکہ عالمی اسلحہ مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

جنوبی کوریا کا یہ نیا جنگی طیارہ، جسے KF-21 کے نام سے جانا جاتا ہے، مقامی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے اور اسے امریکی ایف-35 کا نسبتاً کم لاگت متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طیارے کی تیاری سے جنوبی کوریا دفاعی میدان میں خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم اٹھا رہا ہے۔

صدر لی جے میونگ نے ایک تقریب کے دوران اس منصوبے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ ملک کی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اب عملی تعیناتی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری مستقبل کی سیکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران سے متعلق جاری کشیدگی نے خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر میں دفاعی تیاریوں کو تیز کر دیا ہے، جہاں کئی ممالک اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے جدید جنگی طیاروں کی تلاش میں ہیں۔ ایسے میں جنوبی کوریا کا KF-21 ایک سستا اور مؤثر آپشن بن کر سامنے آ رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس طیارے کی خاصیت اس کی جدید الیکٹرانک وارفیئر صلاحیت، بہتر ریڈار سسٹم اور کثیر المقاصد جنگی آپریشنز کی قابلیت ہے، جو اسے جدید فضائی جنگ کے تقاضوں کے مطابق بناتی ہے۔ اگرچہ یہ مکمل طور پر اسٹیلتھ طیارہ نہیں، لیکن اس کی کارکردگی اسے کئی ممالک کے لیے پرکشش بنا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر اسلحہ کی دوڑ میں اضافہ ہو رہا ہے، جہاں ہر ملک اپنی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ جنوبی کوریا کا یہ اقدام نہ صرف علاقائی سیکیورٹی بلکہ عالمی دفاعی مارکیٹ میں بھی اہم تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

موجودہ حالات میں یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی کشیدگی کے دور میں دفاعی خود کفالت اور جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، اور آنے والے وقت میں ایسے منصوبے عالمی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button