تازہ ترینعالمی خبریں

یورپ کا خواب چکنا چور: جرمنی کی نظریں پھر امریکی F- 35 پر

(تازہ حالات رپورٹ )

برلن/واشنگٹن — جرمنی امریکی ساختہ جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارے F-35 کی مزید خریداری پر غور کر رہا ہے، جس سے یورپ کے مشترکہ جنگی طیارہ پروگرام کو ایک بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ اس معاملے سے باخبر دو ذرائع نے بتایا ہے کہ برلن واشنگٹن کے ساتھ ایسے مذاکرات میں مصروف ہے جو 35 سے زائد اضافی طیاروں کی خریداری تک جا سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

جرمنی نے 2022 میں 35 F-35 طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، جن کی ترسیل رواں سال کے آخر سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ اگر مزید طیارے حاصل کیے جاتے ہیں تو اس سے جرمن فضائیہ کی امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔ ہر F-35 طیارے کی قیمت 80 ملین ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔

یورپی منصوبہ کیوں رکا؟

جرمنی اور فرانس نے 2017 میں مشترکہ طور پر فیچر کامبیٹ ایئر سسٹم (FCAS) پروگرام شروع کیا تھا، جس کا مقصد 2040 کے بعد فرانس کے رافیل اور جرمنی کے یورو فائٹر طیاروں کی جگہ لینا تھا۔ تقریباً 100 ارب یورو مالیت کے اس منصوبے کو یورپی دفاعی خودمختاری کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔

لیکن صنعتی شراکت داری، ٹیکنالوجی کی تقسیم اور قیادت کے معاملات پر اختلافات کے باعث منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔ دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب امکان ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ لڑاکا طیارہ بنانے کا منصوبہ ترک کر دیں، تاہم ڈرون ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل “کامبیٹ کلاؤڈ” سسٹم میں تعاون جاری رکھا جا سکتا ہے۔

برلن کے لیے وقت خریدنے کی کوشش؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جرمنی مزید F-35 خریدتا ہے تو اس سے اسے وقتی طور پر اپنی فضائی صلاحیت مضبوط رکھنے میں مدد ملے گی، خاص طور پر یوکرین جنگ کے بعد یورپ میں سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے تناظر میں۔ تاہم اس اقدام سے یورپی دفاعی خودمختاری کے خواب کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور فرانس کے ساتھ دفاعی تعلقات میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

U.S. Air Force F-35A Lightning II Joint Strike Fighters from the 58th Fighter Squadron, 33rd Fighter Wing, Eglin AFB, Fla. perform an aerial refueling mission with a KC-135 Stratotanker from the 336th Air Refueling Squadron from March ARB, Calif., May 14, 2013 off the coast of Northwest Florida. The 33rd Fighter Wing is a joint graduate flying and maintenance training wing that trains Air Force, Marine, Navy and international partner operators and maintainers of the F-35 Lightning II. (U.S. Air Force photo by Master Sgt. Donald R. Allen/Released)

نیٹو کے تناظر میں F-35 کو جدید ترین اسٹیلتھ اور نیٹ ورک سینٹرک جنگی صلاحیتوں کا حامل طیارہ سمجھا جاتا ہے، جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جرمنی کی جانب سے اس کی مزید خریداری نیٹو میں اس کے کردار کو بھی مضبوط کر سکتی ہے۔

فی الحال برلن اور پیرس کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینے یورپی دفاعی پالیسی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button