ایرانتازہ ترین

ایران میں گیس تنصیبات پر حملے، ٹرمپ کے اعلان کے باوجود بمباری جاری،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

تہران/یروشلم: ایران کے مختلف علاقوں میں گیس اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے تازہ حملوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توانائی کے شعبے پر حملے عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وسطی شہر اصفہان اور جنوب مغربی علاقے خرمشہر میں گیس سے متعلق اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اصفہان میں ایک حملہ گیس انفراسٹرکچر اور انتظامی عمارت پر کیا گیا، جس سے نہ صرف عمارت بلکہ قریبی رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا۔

خرمشہر میں بجلی گھر کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور شہر میں بجلی کی فراہمی برقرار ہے۔

ٹرمپ کا اعلان اور زمینی حقیقت

امریکی صدر ٹرمپ نے چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ “مثبت بات چیت” کے بعد توانائی کے شعبے پر حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ تاہم تازہ حملوں نے اس اعلان پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ زمینی سطح پر فوجی کارروائیاں اور سیاسی بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

امریکی کارروائیاں اور اہداف

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران میں جاری آپریشن کے دوران اب تک 9000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں:

  • پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ سینٹرز
  • میزائل لانچنگ سائٹس
  • ڈرون اور ہتھیار بنانے والی فیکٹریاں
  • بحری اثاثے اور دیگر فوجی تنصیبات شامل ہیں

رپورٹس کے مطابق 140 سے زائد ایرانی بحری جہاز بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔

ایران کا ردعمل

دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق تازہ حملوں میں مرکزی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ عمارتوں میں پہنچ گئیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی جانب نئی میزائل لہریں داغی گئی ہیں، جبکہ اسرائیلی دفاعی نظام انہیں روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جنگ کے وسیع اثرات

28 فروری سے جاری اس جنگ میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ دونوں جانب سے حملے جاری ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

اس جنگ کے باعث عالمی سطح پر:

  • تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی
  • عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے لگا

ماہرین کی رائے

تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک خطرناک مرحلہ ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے بلکہ عالمی توانائی بحران بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button